<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Dr.Sohail Akhtar</title>
	<atom:link href="https://www.drsohailakhtar.com/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://www.drsohailakhtar.com/</link>
	<description>Professor of Medicine and Consultant Chest Physician</description>
	<lastBuildDate>Sat, 28 Jan 2023 13:56:23 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.8.3</generator>

<image>
	<url>https://www.drsohailakhtar.com/wp-content/uploads/2017/10/cropped-favicon-32x32.png</url>
	<title>Dr.Sohail Akhtar</title>
	<link>https://www.drsohailakhtar.com/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>کوویڈ کی لہریں!</title>
		<link>https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%d9%88%d9%88%db%8c%da%88-%da%a9%db%8c-%d9%84%db%81%d8%b1%db%8c%da%ba/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25da%25a9%25d9%2588%25d9%2588%25db%258c%25da%2588-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2584%25db%2581%25d8%25b1%25db%258c%25da%25ba</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Dr.Sohail Akhtar]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 28 Jan 2023 13:56:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Covid 19]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://www.drsohailakhtar.com/?p=574</guid>

					<description><![CDATA[<p>پچھلے چار پانچ مہینوں میں کورونا کا اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ، جس میں کوویڈ کے مریض بڑھتے اور کم ہوتے اور دوبارہ بڑھتے رہے ہیں۔ صورتحال مختلف شہروں میں بھی مختلف رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں ، کسی فرد اور حکام کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوسکتا ہے کہ کتنی پابندی کرنی ہے [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%d9%88%d9%88%db%8c%da%88-%da%a9%db%8c-%d9%84%db%81%d8%b1%db%8c%da%ba/">کوویڈ کی لہریں!</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">پچھلے چار پانچ مہینوں میں کورونا کا اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ، جس میں کوویڈ کے مریض بڑھتے اور کم ہوتے اور دوبارہ بڑھتے رہے ہیں۔ صورتحال مختلف شہروں میں بھی مختلف رہی ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">ایسی صورتحال میں ، کسی فرد اور حکام کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوسکتا ہے کہ کتنی پابندی کرنی ہے اور کتنی نہیں ۔ خصوصا طویل عرصے تک انسان ان سے بیزار بھی ہو جاتا ہے ۔ اور اس کا اثر زندگی کی ضروریات پر پڑتا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">ہر وبائی 'لہر' کی سب سے بڑی وجہ یہی سمجھی جاتی ہے کہ کیسز کم ہوتے ہی لوگ گھلنے ملنے لگتے ہیں ، ماسک وغیرہ پہننا ترک کردیتے ہیں اور بازار وغیرہ کھل جاتے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">پاکستان کے کچھ علاقوں میں ، کویوڈ کی نئی ورائٹی (strains) پھیلاؤ کی ایک اور بڑی وجہ ہیں ۔ دوسری اور تیسری لہر میں دیکھا گیا کہ کوویڈ کی شدت پہلے سے کم نہیں رہی ۔</p>
<p style="text-align: right;">کورونا کے بدترین شکار اب بھی بزرگ افراد اور دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد ہی ہیں ۔ نوجوان اور صحتمند افراد اپنے قریبی لوگوں میں وائرس پھیلانے کا باعث بنتے رہیں گے ، کیونکہ بہت سے نوجوانوں میں اس کی علامات نہیں ہوتیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">شادی بیاہ اور دیگر تقریبات ، ریستوران ، بازار ، شاپنگ مال ، اسکول ، جلسے جلوس ، عبادت گاہوں سمیت عوامی مقامات ممکنہ طور پر پھیلاؤ کے سب سے بڑے ذرائع ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">کووڈ ویکسینیشن ابھی شروع ہی ہوئی ہے اور پاکستان کی ایک فیصد سے بھی کم آبادی نے ابھی تک ویکسین لگوائی ہے ، یہ مجموعی قوت مدافعت (herd immunity) حاصل ہونے سے بہت دور ہے جب کہا جاسکے کہ سب محفوظ ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">تو عزیز دوستو ، ایسا لگتا ہے کہ کوویڈ ایس او پیز کو ترک کرنے اور خطرات کو ہلکا سمجھنے کا وقت ابھی نہیں آیا ۔</p>

<ol style="text-align: right;">
 	<li>اگر ملازمتیں ، تجارت ، تعلیم ، سفر ، مذہبی مراسم وغیرہ جیسی زندگی کی ضروریات کو جاری رکھنا ہے تو ، ماسک اور دیگر SOPs کو اختیار رکھنا اگلے کئی مہینوں تک ضروری ہے ۔</li>
 	<li>ہر کسی کو خود جائزہ لینا چاہئے کہ جو بھی کرنا ہے کیا وہ اشد ضروری ہے ؟ اگر ہے تو اسے تمام احتیاط کے ساتھ کرنا چاہئے۔ ورنہ گریز کرے ۔</li>
 	<li>جب آپ کی باری آئے تو بلا تاخیر کووڈ کا حفاظتی ٹیکہ لگوائیں ۔ اس کی افادیت ، مختلف برانڈز کے انتخاب وغیرہ کے نہ ختم ہونے والے سوالات میں خود کو نہ الجھائیں ۔ اگر پہلے کوئڈ ہوچکا ہو تب بھی ویکسین لگوانی ضروری ہے۔</li>
</ol>
<p style="text-align: right;">ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹس کی غیر ضروری تشہیر ہوئی ہے ۔ قوی سائنسی شواہد ہیں کہ سائیڈ ایفیکٹس عشر عشیر ہیں ، بہت معمولی درجے کے ہیں اور فائدہ کہیں زیادہ ۔</p>
<p style="text-align: right;">4۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اللہ سے اس کے رحم و کرم کے لئے دعا کریں ، جس کے بغیر انسان بے بس ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">۲۰  مارچ</p><p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%d9%88%d9%88%db%8c%da%88-%da%a9%db%8c-%d9%84%db%81%d8%b1%db%8c%da%ba/">کوویڈ کی لہریں!</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کورونا کی ویکسین اگر ابھی تک نہیں لگوائی ، تو فوراً لگوالیں ۔</title>
		<link>https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d9%88%db%8c%da%a9%d8%b3%db%8c%d9%86-%d8%a7%da%af%d8%b1-%d8%a7%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%aa%da%a9-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d9%84%da%af%d9%88%d8%a7%d8%a6/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25da%25a9%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2588%25d9%2586%25d8%25a7-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2588%25db%258c%25da%25a9%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25da%25af%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25a8%25da%25be%25db%258c-%25d8%25aa%25da%25a9-%25d9%2586%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2584%25da%25af%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a6</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Dr.Sohail Akhtar]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 28 Jan 2023 13:55:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Covid 19]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://www.drsohailakhtar.com/?p=572</guid>

					<description><![CDATA[<p>اس پوسٹ کو پڑھنے والے تمام +60 ساتھیوں سے گذارش ہے کہ کورونا کی ویکسین اگر ابھی تک نہیں لگوائی ، تو فوراً لگوالیں ۔ حکومت کی طرف سے خاصی مناسب سہولیات مہیا کی گئی ہیں ۔ قیمت بھی ادا نہیں کرنی پڑتی ۔ طریقہ کار بہت آسان ہے ۔ 1166 پر اپنا شناختی کارڈ [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d9%88%db%8c%da%a9%d8%b3%db%8c%d9%86-%d8%a7%da%af%d8%b1-%d8%a7%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%aa%da%a9-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d9%84%da%af%d9%88%d8%a7%d8%a6/">کورونا کی ویکسین اگر ابھی تک نہیں لگوائی ، تو فوراً لگوالیں ۔</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">اس پوسٹ کو پڑھنے والے تمام +60 ساتھیوں سے گذارش ہے کہ کورونا کی ویکسین اگر ابھی تک نہیں لگوائی ، تو فوراً لگوالیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">حکومت کی طرف سے خاصی مناسب سہولیات مہیا کی گئی ہیں ۔ قیمت بھی ادا نہیں کرنی پڑتی ۔</p>
<p style="text-align: right;">طریقہ کار بہت آسان ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">1166 پر اپنا شناختی کارڈ نمبر میسیج کردیں ۔ وہاں سے ایک پیغام بمعہ کوڈ نمبر فوری موصول ہوجاتا ہے ۔ اس میسیج اور اپنے شناختی کارڈ کے ساتھ کسی بھی قریبی سینٹر میں جا کر ویکسین لگوالیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">اگر آپ کے گھر اور احباب میں اس عمر کے افراد ہیں تو انہیں بھی یہی پیغام دیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">اگر قائل نہیں ہیں ، یا ادھر ادھر کی باتیں سن کر شک میں ہیں تو سمجھا دیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">وبا سامنے ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">بچاؤ کیلیے سہولت دستیاب ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">پھر دیر کیسی !</p>
<p style="text-align: right;">شفا اللہ کی طرف سے ہوتی ہے ، اپنے حصے کا کام تو کریں ۔</p>
<p style="text-align: right;">سائیڈ ایفیکٹس بہت کم لوگوں کو اور بہت معمولی دیکھے گئے ہیں ۔ بدن میں درد ، ہلکا بخار وغیرہ ۔</p>
<p style="text-align: right;">بڑی عمر کے لوگوں کو ، اور خاص طور پر دل کے ، شوگر کے اور بلڈ پریشر کے مریضوں کو تو اس ویکسین کی سب سے پہلے ضرورت ہے ، کیونکہ کورونا انہی کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">اگر پہلے کورونا ہو بھی چکا ہو تو بھی یہ ویکسین لگوانا چاہیے</p><p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d9%88%db%8c%da%a9%d8%b3%db%8c%d9%86-%d8%a7%da%af%d8%b1-%d8%a7%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%aa%da%a9-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d9%84%da%af%d9%88%d8%a7%d8%a6/">کورونا کی ویکسین اگر ابھی تک نہیں لگوائی ، تو فوراً لگوالیں ۔</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کیا کورونا کی ویکسین کے بعد کورونا ہونے کے امکانات بالکل ختم ہو جاتے ہیں ؟</title>
		<link>https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%db%8c%d8%a7-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d9%88%db%8c%da%a9%d8%b3%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%db%81%d9%88%d9%86%db%92/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25da%25a9%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2588%25d9%2586%25d8%25a7-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2588%25db%258c%25da%25a9%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25b9%25d8%25af-%25da%25a9%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2588%25d9%2586%25d8%25a7-%25db%2581%25d9%2588%25d9%2586%25db%2592</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Dr.Sohail Akhtar]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 28 Jan 2023 13:53:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Covid 19]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://www.drsohailakhtar.com/?p=570</guid>

					<description><![CDATA[<p>کیا کورونا کی ویکسین کے بعد کورونا ہونے کے امکانات بالکل ختم ہو جاتے ہیں ؟ جواب ہے : نہیں ۔ - کیا کورونا کی ویکسین سائیڈ ایفیکٹس سے سو فیصد محفوظ ہیں؟ جواب ہے : نہیں ۔ - کیا دیگر ویکسین اور دواؤں کے مقابلے میں کورونا کی ویکسین تحقیقاتی مراحل سے اسی رفتار [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%db%8c%d8%a7-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d9%88%db%8c%da%a9%d8%b3%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%db%81%d9%88%d9%86%db%92/">کیا کورونا کی ویکسین کے بعد کورونا ہونے کے امکانات بالکل ختم ہو جاتے ہیں ؟</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">کیا کورونا کی ویکسین کے بعد کورونا ہونے کے امکانات بالکل ختم ہو جاتے ہیں ؟ جواب ہے : نہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">- کیا کورونا کی ویکسین سائیڈ ایفیکٹس سے سو فیصد محفوظ ہیں؟ جواب ہے : نہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">- کیا دیگر ویکسین اور دواؤں کے مقابلے میں کورونا کی ویکسین تحقیقاتی مراحل سے اسی رفتار سے گزری ہیں؟ جواب ہے : نہیں اور ہاں۔</p>
<p style="text-align: right;">- کیا ویکسین کورونا کا واحد حل ہے یا آخری حل ہے ؟ جواب ہے : نہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">تو پھر ویکسین پر اتنا زور کیوں ؟</p>
<p style="text-align: right;">کیا ہم سب ویکسین کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتے ؟</p>
<p style="text-align: right;">ان سب سوالات کے جوابات اس مثال سے سمجھ میں آسکتے ہیں :۔</p>
<p style="text-align: right;">فرض کیجئے کہ آپ ایک سمندر میں تیر رہے ہیں (کشتی غرق ہو چکی) ، دور دور تک کوئی مدد کے آثار نہیں ۔ سامنے ایک لکڑی کا ٹوٹا پھوٹا تختہ نظر آتا ہے ۔ آپ کے پاس دو راستے ہیں ۔ ایک یہ کہ اسی پر سوار ہوجائیں ۔ یا یہ کہ کسی کشتی کے آسرے میں ایک انجانے بحرِ بیکراں میں تیرتے رہیں تاوقتیکہ تھک کر ڈوب جائیں یا کسی شارک کا لقمہ بن جائیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p style="text-align: right;">کورونا اچانک نازل ہونے والی بالکل نئی بیماری ہے ۔ وبائے عام (pandemic) ہے ۔ اللہ کے فضل سے اس میں مبتلا اکثر افراد معمولی بخار کے بعد دس پندرہ روز میں ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔ لیکن تقریباً دس فیصد میں مرض زیادہ شدت کا ہوتا ہے اور دو فیصد سے کم مریض موت کا شکار بھی ہو سکتے ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">کسی بھی نئی بیماری کا علاج دریافت ہونے میں سالوں لگتے ہیں ۔ کورونا کے مسلمہ علاج کا انتظار کرنا جب ممکن ہوتا اگر چند ایک مریضوں سے سابقہ پڑتا ۔ یہاں تو غول کے غول ہسپتالوں میں امڈ آئے ، یہاں تک کہ ہسپتالوں کے دالانوں میں ان کو رکھنا پڑا ، علاج کرنے والے ڈاکٹرز اور نرسیں کم پڑ گئے یا خود بیمار پڑ گئے ۔ ایسے حالات میں ، ایک بالکل نئے وائرس سے نبٹنے کے لیے جو بھی علاج میسر آیا ، استعمال کیا گیا ۔</p>
<p style="text-align: right;">کورونا کے علاج میں استعمال ہونے والی اکثر ابتدائی دوائیں مثلاً hydroxychloroquine , azithromycin , plasma , وغیرہ اس سے ملتے جلتے دیگر امراض میں پہلے استعمال ہوچکی تھیں ۔ اسی لیے تیزی سے بڑھتے ہوئے ایک طوفان کو روکنے کی کوشش میں انہیں استعمال کیا گیا ، تحقیق کے طویل مراحل سے گذرے بغیر ۔ پھر وقت کے ساتھ ان میں سے بہت سوں کو فائیدہ مند لسٹ سے خارج بھی کرنا پڑا ۔</p>
<p style="text-align: right;">تحقیق کبھی جامد نہیں ہوتی ۔ انسانی ذہن بہتر سے بہتر کی تلاش میں ہمیشہ رہتا ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">وبائی امراض کی تاریخ یہی رہی ہے کہ ان کا بہترین علاج ان سے بچاؤ ہوتا ہے ۔ چنانچہ بہت سے ایسے امراض جن کے لیے بعد میں ادویات میسر آگئیں ، مثلاً ٹی بی ، کالی کھانس ، ٹیٹنس وغیرہ ، لیکن وبائی امکان کی وجہ سے ان کے حفاظتی ٹیکے ترک نہیں کیے گئے ۔</p>
<p style="text-align: right;">کووڈ کے ابتدائی وقت سے بھی میڈیکل سائنس کا فوکس ویکسین ہی رہا ۔ یہ ایک چومکھی لڑائی تھی جس میں ایک طرف تو عوام کو بچاؤ (SOPs) کی بھرپور ترغیب دلائی گئی ، دوسری طرف مریضوں کے علاج کی بہتر سے بہتر سہولیات جنگی بنیادوں پر مہیا کرنے کی کوششیں کی گئیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ویکسین کی تحقیق میں درجنوں اداروں نے عرق ریزی کی جو جاری ہے اور اگلے کئی سال شاید جاری رہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">کسی وبا کے ختم ہونے یا بالکل ہلکا ہونے کا ایک امکان یہ ہوتا ہے کہ آبادی کی اکثریت میں اس کے خلاف مدافعت (immunity) پیدا ہو جائے ۔ لیکن ایسا ہونے تک کثیر اموات ہونے کا نقصان کوئی برداشت نہیں کرسکتا ۔</p>
<p style="text-align: right;">لامحالہ حفاظتی ٹیکے یا ویکسین ہی بڑے پیمانے کی مدافعت (herd immunity) کا سب سے موثر ذریعہ رہ جاتے ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p style="text-align: right;">اب ان سوالات اور وسوسوں کی جانب آتے ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">1 - کیا کورونا کی ویکسین کے بعد کورونا ہونے کے امکانات بالکل ختم ہو جاتے ہیں ؟ جواب ہے : نہیں ۔ کسی بھی دوا یا علاج کی افادیت سو فیصد نہیں ہوتی ۔ پھر بھی ہم علاج کرتے ہیں اسوقت دستیاب بہترین ذرائع میں سے ۔ چالیس پچاس سال پہلے بیماریوں کا جو علاج رائج تھا ، اگر بعد کی تحقیق کے نتیجے میں آج اس سے مختلف رائج ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں کہ پہلے غلط علاج کیا گیا ۔ بلکہ یہ کہ ہر دور کی تحقیق و معلومات کے نتیجے میں جو بہترین راستہ میسر ہو ، اسے ہی اپنایا جاسکتا ہے ۔ وقت کے ساتھ اللہ نے بہتر راستے دکھائے تو علاج بھی تبدیل ہوئے ۔</p>
<p style="text-align: right;">اسی طرح کسی علاج کے لیے ایک دوا ، سو فیصد مریضوں کو فائیدہ نہیں دیتی ۔ یہ اللہ کی مشیت ہے ۔ اس کی وجہ بہت سے مختلف عوامل ہوتے ہیں جو کسی ایک دوا (یا ویکسین) کے فائدہ مند ہونے یا نہ ہونے میں کارفرما ہوسکتے ہیں ۔ کچھ کا علم ہوپاتا ہے ، کچھ کا نہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">2 - کیا کورونا کی ویکسین کے کوئی سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہیں؟ جواب ہے : نہیں ۔ دنیا کی کوئی بھی دوا یا ویکسین مضر اثرات (سائیڈ ایفیکٹس) سے بالکل خالی نہیں ہے ۔ دواؤں کے عام استعمال کی اجازت دینے سے پہلے ادارے اس بات کا اطمینان کرتے ہیں کہ صرف ان ادویات کو اوکے کیا جائے جن کی ریسرچ کے دوران مضر اثرات نہ تو سیرئس نوعیت کے اور نا بڑی تعداد میں پائے گئے ہوں ۔</p>
<p style="text-align: right;">چنانچہ کورونا کی مختلف ویکسینز سے بھی معمولی نوعیت کے اثرات جیسے ہلکا بخار، جسم میں درد وغیرہ دیکھے گئے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ان کی وجہ سے ویکسین کے استعمال کو ترک کر دینا عقلمندی نہیں ہوگی کیونکہ ویکسین نا لگوانے سے کورونا کے نقصانات اس سے کہیں زیادہ ہوسکتے ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">(چند ایک شدید نوعیت کے مضر اثرات کی رپورٹس سامنے آئی ہیں ، جس کی تحقیق جاری ہے ۔ البتہ ویکسین کی اکثریت بڑے سائیڈ ایفیکٹس سے محفوظ ہے)</p>
<p style="text-align: right;">3 - کیا دیگر ویکسین اور دواؤں کے مقابلے میں کورونا کی ویکسین تحقیقاتی مراحل سے مناسب رفتار سے گزری ہیں؟ جواب ہے : نہیں اور ہاں ۔</p>
<p style="text-align: right;">ایک طرف تو تحقیقاتی عمل ، جو دواؤں کی تیاری کے سلسلے میں کچھ سالوں میں مکمل ہوتا ہے ، کورونا کیلئے تیزی سے طے کیا گیا تاکہ ایک عالمی وبا کی روک تھام جلد ہوسکے ۔ دوسری طرف اس 'تیزی' میں معیار کیلئے ضروری تقاضوں کو درگزر نہیں کیا گیا جو کم از کم درکار ہوتی ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">4 - کیا ویکسین کورونا کا واحد حل ہے یا آخری حل ہے ؟ جواب ہے : نہیں ۔ کووڈ کی بہتر سے بہتر ویکسین اور دوائیں ، جن سے اس کے نہ ہونے کے امکانات مزید کم ہوسکیں اور وہ بالکل محفوظ بھی ہو ، کی تلاش میں دنیا لگی ہوئی ہے ۔ البتہ اس سے بہتر کوئی علاج فی الحال میسر نہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">- اس کے علاوہ بہت سے دیگر سوالات ہیں ۔ مثلاً کووڈ وائرس کی نئی اقسام (strains) کا موجودہ ویکسین سے قابو میں آنا ۔</p>
<p style="text-align: right;">مختلف ویکسینز میں فایدہ کے تناسب کا فرق ۔</p>
<p style="text-align: right;">ویکسین کی عام دستیابی کیلئے سالوں کا انتظار اور وسائل ، وغیرہ ۔</p>
<p style="text-align: right;">عملی راستہ یہی نظر آتا ہے کہ جب تک اللہ کی ہدایت کے نتیجے میں انسانی ذہن اس سے بہتر راستہ تلاش نہیں کرلیتا ، موجودہ طریقہ یعنی ویکسین کو اپنایا جائے ۔</p>
<p style="text-align: right;">کچھ لوگوں میں ویکسین کے بعد کورونا ہونے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ انہوں نے بہت جلد احتیاط ترک کردی اس سے پہلے کہ مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ۔ یا وہ ان پانچ ، دس فیصد افراد میں سے تھے جو ویکسین کے فوائد سے بہرحال محروم رہ جاتے ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">یہ وائرس ایک سے دوسرے میں پھیلتا ہے ۔ انسانی فطرت پابندیوں کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرسکتی ۔ معاشی و معاشرتی مجبوریاں انسان کو لامحالہ غیر محفوظ راستے کی طرف دھکیل دیتی ہیں ۔ اسلیے 'دنیا میں رہنے' اور محفوظ رہنے کیلئے موجودہ حالات میں ویکسین ہی مناسب راستہ محسوس ہوتا ہے ، حفاظتی ذرائع (ماسک وغیرہ) کو اختیار رکھنے کے ساتھ ، جب تک اس مرض کا موثر سدباب نہیں ہوجاتا ۔</p>
<p style="text-align: right;">ایک قابل توجہ بات یہ ہے کہ جب تک آبادی کی اکثریت ویکسین نہ لگوالے ، بڑے پیمانے کی مدافعت یا herd immunity حاصل ہونا مشکل ہے ۔ پاکستان میں اسوقت تک ویکسین لگوانے والے افراد کی تعداد ایک فیصد سے کم ہے ۔ معاشرے کو مجموعی فائیدہ ملنا جب ہی ممکن ہوگا جب کثیر تعداد میں افراد تمام شکوک وشبہات کو پس پشت ڈال کر اللہ کی اس دی گئی سہولت سے فیض یاب ہوں گے ۔</p><p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%db%8c%d8%a7-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d9%88%db%8c%da%a9%d8%b3%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%db%81%d9%88%d9%86%db%92/">کیا کورونا کی ویکسین کے بعد کورونا ہونے کے امکانات بالکل ختم ہو جاتے ہیں ؟</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایک گمراہ کن ویڈیو آج کل سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے</title>
		<link>https://www.drsohailakhtar.com/%d8%a7%db%8c%da%a9-%da%af%d9%85%d8%b1%d8%a7%db%81-%da%a9%d9%86-%d9%88%db%8c%da%88%db%8c%d9%88-%d8%a2%d8%ac-%da%a9%d9%84-%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84-%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d9%be%d8%b1-%da%af/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25d8%25a7%25db%258c%25da%25a9-%25da%25af%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25db%2581-%25da%25a9%25d9%2586-%25d9%2588%25db%258c%25da%2588%25db%258c%25d9%2588-%25d8%25a2%25d8%25ac-%25da%25a9%25d9%2584-%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25b4%25d9%2584-%25d9%2585%25db%258c%25da%2588%25db%258c%25d8%25a7-%25d9%25be%25d8%25b1-%25da%25af</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Dr.Sohail Akhtar]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 28 Jan 2023 13:50:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Covid 19]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://www.drsohailakhtar.com/?p=567</guid>

					<description><![CDATA[<p>ایک گمراہ کن ویڈیو آج کل سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے جس میں ڈاکٹر کے لباس پہنے ایک نوجوان یہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر آپ کو آکسیجن نہیں مل رہی ہو تو اس کی بجائے نیبولایئزر nebulizer استعمال کریں ، آرام آجائے گا ۔ اس پر ہرگز یقین نہیں کریں ۔ آکسیجن [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%d8%a7%db%8c%da%a9-%da%af%d9%85%d8%b1%d8%a7%db%81-%da%a9%d9%86-%d9%88%db%8c%da%88%db%8c%d9%88-%d8%a2%d8%ac-%da%a9%d9%84-%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84-%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d9%be%d8%b1-%da%af/">ایک گمراہ کن ویڈیو آج کل سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">ایک گمراہ کن ویڈیو آج کل سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے جس میں ڈاکٹر کے لباس پہنے ایک نوجوان یہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر آپ کو آکسیجن نہیں مل رہی ہو تو اس کی بجائے نیبولایئزر nebulizer استعمال کریں ، آرام آجائے گا ۔</p>
<p style="text-align: right;">اس پر ہرگز یقین نہیں کریں ۔</p>
<p style="text-align: right;">آکسیجن کی کمی صرف آکسیجن سے پوری کی جا سکتی ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">نیبولایئزر ایک مشین ہے جس میں کوئی دوا یا سیلائن saline ڈالی جائے تو وہ ہوا کے پریشر سے بخارات بن کر سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں جاتی ہے ۔ یہ عام طور پر دمہ اور سانس کے امراض میں خصوصاً شدید نوعیت کے کیسز میں استعمال ہوتی ہے ۔ البتہ ایسے وقت میں بھی آکسیجن ساتھ دی جاتی ہے (اگر اس کی کمی ہو ) ۔</p>
<p style="text-align: right;">اس ویڈیو میں نوجوان لہجہ سے پڑوسی ملک کا باشندہ لگتا ہے (ممکن ہے ) جہاں ان دنوں کورونا کی لہر لاکھوں لوگوں کو لپیٹ میں لی ہوئی ہے ، اور آکسیجن کی کمی اور ہسپتالوں میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد میں اموات ہورہی ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شاید یہ نوجوان اپنی دانست میں ایسے پریشان لوگوں کو ایک موہوم سی امید دلا رہا ہے (کہ نیبولایئزر لے لو ، کم از کم ہوا میں موجود آکسیجن ہی پھیپھڑوں تک پہنچ جائے گی) یا لاعلم ہے یا کسی اور وجہ سے یہ پیغام دے رہا ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">اس کی نیت جو بھی ہو ، بہرحال ۔۔۔۔</p>
<p style="text-align: right;">اس سے ہرگز یہ مطلب نہیں لیا جائے کہ کورونا یا کسی بھی دوسرے مرض میں جب آکسیجن کی کمی ہو تو اسے خالی نیبولایئزر (جس میں دوا بھی کوئی نہیں ہے) کے استعمال سے پورا کیا جاسکتا ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">نہ اس سے یہ خوف ہونا چاہیے کہ ہر کورونا کے مریض کو یہ نوبت آتی ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کورونا کے سو مریضوں میں سے دس کو نمونیا ہوسکتا ہے جن میں سے کچھ کو آکسیجن کی کمی اور ہسپتال میں علاج کی ضرورت پیش آسکتی ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">اگر کسی شہر میں ایک وقت میں کورونا کے سو مریض ہوں تو ایسی شدت کے دس مریض ہی ہوسکتے ہیں جن کو طبی امداد ملنا نسبتاً آسان ہے ۔ البتہ جب عوام کی لاپرواہی کی وجہ سے ایک وقت میں کسی شہر میں ہزاروں مریض ہو جائیں ، تو ان کے دس فیصد کتنے ہوں گے ؟ اور اس علاقے کے ہسپتال اتنی بڑی تعداد کو داخل اور آکسیجن سمیت ادویات مہیا کرنے کی صلاحیت کب تک رکھ سکتے ہیں</p><p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%d8%a7%db%8c%da%a9-%da%af%d9%85%d8%b1%d8%a7%db%81-%da%a9%d9%86-%d9%88%db%8c%da%88%db%8c%d9%88-%d8%a2%d8%ac-%da%a9%d9%84-%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84-%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d9%be%d8%b1-%da%af/">ایک گمراہ کن ویڈیو آج کل سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کورونا کا کوئی وجود نہیں اور یہ مرض ایک بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے ۔</title>
		<link>https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%8c%db%81-%d9%85%d8%b1%d8%b6-%d8%a7%db%8c%da%a9/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25da%25a9%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2588%25d9%2586%25d8%25a7-%25da%25a9%25d8%25a7-%25da%25a9%25d9%2588%25d8%25a6%25db%258c-%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25d9%2586%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25db%258c%25db%2581-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25b6-%25d8%25a7%25db%258c%25da%25a9</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Dr.Sohail Akhtar]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 28 Jan 2023 13:47:20 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Covid 19]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://www.drsohailakhtar.com/?p=564</guid>

					<description><![CDATA[<p>کورونا سے متعلق خبر رساں ایجنسی رائیٹرز سے منسوب ایک من گھڑت خبر عوام کے اذہان میں شکوک کو ہوا دے رہی ہے ۔ جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس میں کورونا یا کووڈ سے مرنے والوں کے پوسٹ مارٹم سے پتا چلا ہے کہ: - کورونا کا کوئی وجود نہیں اور یہ [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%8c%db%81-%d9%85%d8%b1%d8%b6-%d8%a7%db%8c%da%a9/">کورونا کا کوئی وجود نہیں اور یہ مرض ایک بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے ۔</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">کورونا سے متعلق خبر رساں ایجنسی رائیٹرز سے منسوب ایک من گھڑت خبر عوام کے اذہان میں شکوک کو ہوا دے رہی ہے ۔ جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس میں کورونا یا کووڈ سے مرنے والوں کے پوسٹ مارٹم سے پتا چلا ہے کہ:</p>
<p style="text-align: right;">- کورونا کا کوئی وجود نہیں اور یہ مرض ایک بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">- موت کی وجہ خون کا رگوں میں جم جانا ہے جو بیکٹیریا سے ہوتا ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">- عالمی ادارہ صحت WHO کی ہدایات تھیں کہ کورونا سے مرنے والوں کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا جائے ، اور روس نے بڑے پیمانے پر اس کی خلاف ورزی کی ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔</p>
<p style="text-align: right;">رائیٹرز نے 15 اپریل 2021 کے ایک آرٹیکل <a href="https://www.reuters.com/article/factcheck-russia-covid-autopsy-idUSL1N2M82C9?fbclid=IwAR3T2rrNOKb2y3rz3lxFi06uKmbcCbfwP-Ci-hX5lObelyQSlGxUe_sjP6o">https://www.reuters.com/.../factcheck-russia-covid...</a> میں اس خبر کو من گھڑت قرار دیا ہے ۔ اور کہا ہے کہ</p>
<p style="text-align: right;">1 ۔ ڈبلیو ایچ او نے COVID-19 متاثرین کے لئے پوسٹ مارٹم کرنے کی ممانعت نہیں کی ۔ البتہ ستمبر 2020 میں ادارے نے کووڈ سے مرنے والے افراد کے پوسٹ مارٹم کے حفاظتی طریقہ کار کے بارے میں رہنمائی جاری کی تھی ۔</p>
<p style="text-align: right;">پوسٹ مارٹم روس سمیت بہت سے دیگر ممالک میں ایک عمومی طریقہ کار ہے جس سے موت کی وجہ متعین کرنے میں مدد ملتی ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">14 اپریل 2021 تک روس میں 104,000 افراد کی اموات کووڈ 19 سے ہونے کی تصدیق روسی وزارت صحت خود کر چکا ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">2 ۔ کورونا کی پیچیدگیوں میں رگوں میں خون کا جمنا thrombosis شامل ہے جس کا علم طبی ماہرین کو ایک سال سے ہے ۔ اسی وجہ سے کووڈ کے شدید بیمار افراد کو خون پتلا کرنے کی ادویات مثلاً heparin دی جاتی ہیں ۔ اس سے وائرس ہونے کی نفی نہیں ہوتی ، بلکہ کئی انفکشنز اور دیگر بیماریوں کی پیچیدگیوں کی وجہ تھرومبوسس ہوتا ہے ، یہ حقیقت سالوں سے میڈیکل سائنس میں مسلمہ ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">(ایسپرین اس کا اصل علاج نہیں جیسا کہ اس خبر میں کہا گیا ہے) ۔</p>
<p style="text-align: right;">3 ۔ کووڈ سے اموات کی وجہ محض تھرومبوسس نہیں ، مدافعتی نظام کی کمزوری سے نمونیا اور دوسرے secondary انفکشن ، ہارٹ اٹیک ، گردوں کا فیل ہوجانا ، وغیرہ شامل ہیں ۔ (ایسے پیچیدہ کیسز پانچ فیصد سے کم متاثر افراد ہی میں ہوتے ہیں) ۔</p>
<p style="text-align: right;">4 ۔ ایک اور غلط بات جو اس پوسٹ میں کہی گئی یہ ہے کہ بیکٹیریا کی وجہ سے اس بیماری کا علاج اینٹی بائیوٹکس سے با آسانی ہوجاتا ہے ۔ یہ بھی غلط ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">کووڈ سمیت دیگر وائرس انفکشن کا علاج اینٹی بائیوٹک ادویات سے کرنا غلط ہے (جبکہ اینٹی وائرل ادویات شدید نوعیت کے کچھ مریضوں میں فائدہ دے سکتی ہیں) . اینٹی بائیوٹک کا فایدہ صرف ان کیسز میں ہوسکتا ہے جن میں بیکٹیریا secondary انفکشن کرائیں ۔ بے دریغ استعمال سے اینٹی بائیوٹکس اصل بیکٹیریا کے انفکشن میں resistance یعنی بے اثر بھی ہوسکتی ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">خلاصہ ۔</p>
<p style="text-align: right;">ایک سال سے زیادہ عرصے سے اس وبا میں مبتلا افراد کو اپنے دائیں بائیں ہر طرف دیکھنے اور کثیر تعداد میں اموات کے مشاہدے کے باوجود اگر کوئی اب بھی اس کا انکاری ہے تو افسوس کے علاوہ کیا کیا جاسکتا ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">گلہ عام لوگوں سے بھی کیا جاسکتا ہے جو ناواقفیت اور سادہ لوح ہونے کی وجہ سے منفی خبروں سے جلد اثر لے لیتے ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">البتہ اس کے زیادہ قصور وار وہ افراد ہیں جو بے صبری یا سستی شہرت کی وجہ سے کسی غیر مصدقہ خبر کو پھیلانا اپنا فرض سمجھتے ہیں ، جس سے لاکھوں سادہ ذہن حقیقت سے انکاری ہو کر خود کو اور دیگر لوگوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">کیا اس ملک میں کوئی ایسا ادارہ نہیں ، جو ایسے مسخروں کو چیک کرسکے ؟</p>
<p style="text-align: right;">مسلمانوں کو تو نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح ہدایت کو سامنے رکھنا چاہیے جس میں آپ نے اس شخص کو ایماندار نہیں قرار دیا جو ہر سنی سنائی بات کو آگے پھیلائے ۔</p>
<p style="text-align: right;">اللہ ہمیں ہدایت دے آمین ۔</p>
<p style="text-align: right;">ڈاکٹر سہیل اختر</p><p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%8c%db%81-%d9%85%d8%b1%d8%b6-%d8%a7%db%8c%da%a9/">کورونا کا کوئی وجود نہیں اور یہ مرض ایک بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے ۔</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>How could the COVID vaccine be developed so fast, whereas it takes much longer for other drugs or vaccines!</title>
		<link>https://www.drsohailakhtar.com/how-could-the-covid-vaccine-be-developed-so-fast-whereas-it-takes-much-longer-for-other-drugs-or-vaccines/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=how-could-the-covid-vaccine-be-developed-so-fast-whereas-it-takes-much-longer-for-other-drugs-or-vaccines</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Dr.Sohail Akhtar]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 28 Jan 2023 13:42:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Social and Medical]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://www.drsohailakhtar.com/?p=561</guid>

					<description><![CDATA[<p>The question has been often asked; raising doubts, flaming controversies, and most importantly slowing down the vaccination drive. Here are some scientific and other evidence that explain this unprecedented feat, as follows. Were the COVID vaccine trials rushed ahead of time? The vaccine trial can’t be rushed ahead because the immune system takes a certain [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/how-could-the-covid-vaccine-be-developed-so-fast-whereas-it-takes-much-longer-for-other-drugs-or-vaccines/">How could the COVID vaccine be developed so fast, whereas it takes much longer for other drugs or vaccines!</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[The question has been often asked; raising doubts, flaming controversies, and most importantly slowing down the vaccination drive.

Here are some scientific and other evidence that explain this unprecedented feat, as follows.<span id="more-49533"></span>

<strong>Were the COVID vaccine trials rushed ahead of time?</strong>

The vaccine trial can’t be rushed ahead because the immune system takes a certain amount of time to generate immunity. What can be rushed, however, is paperwork, manufacturing of the vaccine doses, and reduction of bureaucratic steps. These took place at the same time as the trials were underway. Normally they would wait until after completion, but the pandemic led to many steps being undertaken simultaneously.

<strong>What is emergency use authorization?</strong>

Internationally, the regulatory authorities look at two things in the clinical trials, before approval of a vaccine or drug for general use:
<ol>
 	<li>a) safety of the participants b) data quality and integrity</li>
</ol>
In the case of the COVID-19 vaccines, the FDA didn’t give the routine approval. Instead, the three initial vaccines (Pfizer, Moderna, and JJ) were granted emergency use authorization (EUA) from the FDA.

‘Emergency use’ means that you weigh the risks of the moment—the COVID crisis—against the minimal increase in knowledge you might gain by following the trials longer.

The standards are never compromised even under an emergency authorization, rather an extensive standard review process was expedited.

<strong>Did the COVID vaccine trials achieve enough strength to be put into practice?</strong>
<ol>
 	<li>a) All medicines go through comparative trials with medicines given to half and placebo (substance with no therapeutic effect) to the other half.</li>
</ol>
In less common diseases, it takes years for enough people to be affected and included in both halves, to show the difference. Hence, trials usually require much longer periods to achieve scientific significance.

In the COVID-19 pandemic, there was no shortage of patients, which allowed the trial period to be short.
<ol>
 	<li>b) Vaccines were approved after their efficacy (chances of not getting COVID after the vaccine) and safety (chances of harm) were found to be satisfactory.</li>
</ol>
Between different vaccines, there are differences of efficacy; however, their effectiveness of preventing serious forms of Covid, close to 100 percent, is similar.

<strong>What measures made it possible for a vaccine to be put into practice so soon?</strong>

<strong>Expedition of logistics:</strong> It was important for the governments as well as the pharmaceutical companies both to remove or reduce paperwork, manufacturing delays, and other bureaucratic hurdles that occur during research hence, extra steps were taken.

<strong>Emergency use of authorization: </strong>the regulatory authorities authorized emergency use, once safety and efficacy data was confirmed.

<strong>Availability of huge number of subjects: </strong>A huge number of people were available for inclusion in trials. Hence the strength required for achieving significance was readily available. Enrollment for trials was also faster due to the hype of the pandemic.

<strong>Prioritization: </strong>Governments and companies put resources together as a priority towards COVID-19 treatments and vaccines.

<strong>Early identification:</strong> The actual virus and its genomics, essential to initiate research was available from China as early as January 2020, to researchers around the world. This itself takes months to years.

<strong>Availability of Technology:</strong> The Messenger RNA (mRNA) vaccine technology, used by Pfizer/Moderna, has been in the process of development for over two decades so the research didn’t have to be started from scratch. Similarly, the University of Oxford has done extensive work on previous SARS viruses.

<strong>Divine influence:</strong>  After all, Allah’s mercy should never be forgotten due to which things could be done fast and yielded effective results.<p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/how-could-the-covid-vaccine-be-developed-so-fast-whereas-it-takes-much-longer-for-other-drugs-or-vaccines/">How could the COVID vaccine be developed so fast, whereas it takes much longer for other drugs or vaccines!</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایک منظم لابی ہے ، جو بہت مضبوط ہے اور اپنے کام سے بہت مخلص ۔</title>
		<link>https://www.drsohailakhtar.com/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%85%d9%86%d8%b8%d9%85-%d9%84%d8%a7%d8%a8%db%8c-%db%81%db%92-%d8%8c-%d8%ac%d9%88-%d8%a8%db%81%d8%aa-%d9%85%d8%b6%d8%a8%d9%88%d8%b7-%db%81%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%be/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25d8%25a7%25db%258c%25da%25a9-%25d9%2585%25d9%2586%25d8%25b8%25d9%2585-%25d9%2584%25d8%25a7%25d8%25a8%25db%258c-%25db%2581%25db%2592-%25d8%258c-%25d8%25ac%25d9%2588-%25d8%25a8%25db%2581%25d8%25aa-%25d9%2585%25d8%25b6%25d8%25a8%25d9%2588%25d8%25b7-%25db%2581%25db%2592-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d9%25be</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Dr.Sohail Akhtar]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 28 Jan 2023 13:38:12 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Social and Medical]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://www.drsohailakhtar.com/?p=557</guid>

					<description><![CDATA[<p>ایک منظم لابی ہے ، جو بہت مضبوط ہے اور اپنے کام سے بہت مخلص ۔ (طریقہ واردات سے صاف لگتا ہے کہ ایک دو افراد کا کام نہیں) ۔ یہ لابی ، ہر کچھ روز بعد عوام کے اذہان کے آلودگی لیول pollution levels کو اس مطلوبہ درجے سے کم نہیں ہونے دیتی کہ [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%85%d9%86%d8%b8%d9%85-%d9%84%d8%a7%d8%a8%db%8c-%db%81%db%92-%d8%8c-%d8%ac%d9%88-%d8%a8%db%81%d8%aa-%d9%85%d8%b6%d8%a8%d9%88%d8%b7-%db%81%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%be/">ایک منظم لابی ہے ، جو بہت مضبوط ہے اور اپنے کام سے بہت مخلص ۔</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">ایک منظم لابی ہے ، جو بہت مضبوط ہے اور اپنے کام سے بہت مخلص ۔ (طریقہ واردات سے صاف لگتا ہے کہ ایک دو افراد کا کام نہیں) ۔</p>
<p style="text-align: right;">یہ لابی ، ہر کچھ روز بعد عوام کے اذہان کے آلودگی لیول pollution levels کو اس مطلوبہ درجے سے کم نہیں ہونے دیتی کہ لوگ اطمینان قلب حاصل کر سکیں ، اور مروجہ طریقہ علاج و احتیاط کو اختیار کرکے وبا سے بچ سکیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">آلودگی کے اس لیول کی برقراری کی خاطر ہر کچھ روز بعد ، کوئی نہ کوئی 'بریکنگ نیوز' مارکیٹ میں پھینکی جاتی رہتی ہے ، سوشل میڈیا کے ذریعے ۔</p>
<p style="text-align: right;">اس لابی کے افراد شاید گنتی کے ہوں ، لیکن عوام میں سے ، ہم سب ، نادانستہ ان کے معاون بن جاتے ہیں : ایسی پوسٹس یا خبریں شئیر کر کے ۔</p>
<p style="text-align: right;">ہمارے مشعلِ راہ ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو جھوٹا قرار دیا جو ہر سنی سنائی بات کو بغیر تصدیق کیے دوسروں تک پہنچانے ۔</p>
<p style="text-align: right;">مجھ سمیت ہر مسلمان کے لئے سوچنے کا موقع ہے ۔ ہماری ایک شئیر کی ہوئی پوسٹ لاکھوں تک پہنچ سکتی ہے ۔ یوں ہم اس اینٹی ویکسین (یا ایسی کسی بھی) لابی کے معاون ہوسکتے ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">"کورونا وائرس جھوٹ ہے" ، "ویکسین نقصان دہ ہیں" ، وغیرہ جیسی پوسٹس کمال ہے کہ اب بھی شئیر کی جا رہی ہیں جب ہر آنکھیں رکھنے والا اپنے اردگرد سینکڑوں ہزاروں کو اس میں مبتلا دیکھ چکا ، اکثر خود بھی بیمار ہوچکے ۔ پھر بھی !</p>
<p style="text-align: right;">بہت ضروری ہے کہ کسی خبر یا پوسٹ کو جو چونکا دینے والی ہو ، پہلے دیگر ذرائع سے تصدیق کر لیں ، اس شعبے کے کسی مستند ماہر سے معلوم کرلیں ۔ اور اگر اطمینان نہ ہو ، تو کم از کم دوسروں تک پہنچانے سے گریز کریں ۔</p>
<p style="text-align: right;">اپنے دل ہی سے پوچھ لیں</p><p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%d8%a7%db%8c%da%a9-%d9%85%d9%86%d8%b8%d9%85-%d9%84%d8%a7%d8%a8%db%8c-%db%81%db%92-%d8%8c-%d8%ac%d9%88-%d8%a8%db%81%d8%aa-%d9%85%d8%b6%d8%a8%d9%88%d8%b7-%db%81%db%92-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%d8%a7%d9%be/">ایک منظم لابی ہے ، جو بہت مضبوط ہے اور اپنے کام سے بہت مخلص ۔</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>The Typhidot test</title>
		<link>https://www.drsohailakhtar.com/the-typhidot-test/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=the-typhidot-test</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Dr.Sohail Akhtar]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 27 Jan 2023 15:20:56 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Health]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://www.drsohailakhtar.com/?p=552</guid>

					<description><![CDATA[<p>The smaller lesion, on left, in September progressed to the larger abscess, on the right, in two months. Why? Because the physician treating this young lady kept on changing her antibiotics because of an initial positive TYPHIDOT test, while the fever didn't settle. (Eventually genexpert in sputum came out as positive and ATT was commenced). [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/the-typhidot-test/">The Typhidot test</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[The smaller lesion, on left, in September progressed to the larger abscess, on the right, in two months. Why? Because the physician treating this young lady kept on changing her antibiotics because of an initial positive TYPHIDOT test, while the fever didn't settle. (Eventually genexpert in sputum came out as positive and ATT was commenced).

Typhidot, a non specific test, according to most reviews, is playing havoc with patients in Pakistan. Positive in so many febrile illnesses apart from typhoid, it delays the actual diagnosis in many cases, while leading to unnecessary treatment at the same time. Quality labs have stopped doing it, infectious disease societies do not recommend it for diagnosis of Typhoid, yet it continues to be the first test ordered by doctors in a case of fever. It's the modern Widal's test in fact.<p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/the-typhidot-test/">The Typhidot test</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>دَمہ: مفروضات، غلط تصورات کی بیخ کنی ناگزیر</title>
		<link>https://www.drsohailakhtar.com/%d8%af%d9%8e%d9%85%db%81-%d9%85%d9%81%d8%b1%d9%88%d8%b6%d8%a7%d8%aa%d8%8c-%d8%ba%d9%84%d8%b7-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%8c%d8%ae-%da%a9%d9%86%db%8c-%d9%86%d8%a7%da%af/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25d8%25af%25d9%258e%25d9%2585%25db%2581-%25d9%2585%25d9%2581%25d8%25b1%25d9%2588%25d8%25b6%25d8%25a7%25d8%25aa%25d8%258c-%25d8%25ba%25d9%2584%25d8%25b7-%25d8%25aa%25d8%25b5%25d9%2588%25d8%25b1%25d8%25a7%25d8%25aa-%25da%25a9%25db%258c-%25d8%25a8%25db%258c%25d8%25ae-%25da%25a9%25d9%2586%25db%258c-%25d9%2586%25d8%25a7%25da%25af</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Dr.Sohail Akhtar]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 27 Jan 2023 15:18:08 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Social and Medical]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://www.drsohailakhtar.com/?p=549</guid>

					<description><![CDATA[<p>گلوبل انیشیٹیو فارایزما (Global Inititiative for Asthma)کے زیرِ اہتمام دُنیا بَھر میں ہر سال مئی کے پہلے منگل کو ’’عالمی یومِ دَمہ‘‘ منایا جاتا ہے۔رواں برس یہ یوم3مئی کومنایا جارہا ہے۔ دَمہ مکمل طور پر قابلِ علاج مرض نہیں، لیکن اس پر کنٹرول اور اس کے شدید حملوں سے بچاؤ ممکن ہے۔ اِسی حقیقت کے [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%d8%af%d9%8e%d9%85%db%81-%d9%85%d9%81%d8%b1%d9%88%d8%b6%d8%a7%d8%aa%d8%8c-%d8%ba%d9%84%d8%b7-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%8c%d8%ae-%da%a9%d9%86%db%8c-%d9%86%d8%a7%da%af/">دَمہ: مفروضات، غلط تصورات کی بیخ کنی ناگزیر</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">گلوبل انیشیٹیو فارایزما (Global Inititiative for Asthma)کے زیرِ اہتمام دُنیا بَھر میں ہر سال مئی کے پہلے منگل کو ’’عالمی یومِ دَمہ‘‘ منایا جاتا ہے۔رواں برس یہ یوم3مئی کومنایا جارہا ہے۔ دَمہ مکمل طور پر قابلِ علاج مرض نہیں، لیکن اس پر کنٹرول اور اس کے شدید حملوں سے بچاؤ ممکن ہے۔ اِسی حقیقت کے پیشِ نظر ہر سال مرض سے متعلق مختلف تھیمز یاسلوگنز متعارف کروائے جاتے ہیں، جن کی بنیاد پر پھر دُنیا بَھر میں معلومات عام کی جاتی ہیں۔رواں برس کے لیے جو تھیم منتخب کیا گیا ہے، وہ "Closing Gaps in Asthma Care" ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">تاکہ دَمے کے علاج اور مریضوں کی دیکھ بھال کے لیے نہ صرف معلومات عام کی جائیں، بلکہ اُن پہلوؤں کی نشان دہی بھی ہو، جو مرض کی شدّت اور اخراجات میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ دُنیا بَھر،بالخصوص ترقّی پذیر اور کم ترقّی یافتہ مُمالک میں اس مرض کی تشخیص اور علاج تک مساوی رسائی، تربیت یافتہ عملے کی عدم دست یابی، مریض، عام افراد اور طبّی عملے میں معلومات و آگاہی کا فقدان، طویل المدّتی علاج اور اس ضمن میں استعمال کیے جانے والے آلات کی نگرانی اور اس مرض سے متعلق مختلف توہمّات و خدشات سمیت کئی ایسے مسائل ہیں، جن کا مشاہدہ کیا جاتا ہے، لہٰذا ’’عالمی یومِ دَمہ‘‘ کے ذریعے ان تمام مسائل کی نشان دہی کے ساتھ ان کا حل بھی پیش کیا جاتا ہے، تاکہ مریضوں کو بہتر علاج مہیا کرنے کے ساتھ عوام النّاس کو مرض سے متعلق شعور و آگہی بھی فراہم کی جائے۔</p>
<p style="text-align: right;">دَمہ، سانس کی نالیوں میں سوزش کا مرض ہے، جو دُنیا بَھر، خصوصاً بچّوں میں عام ہے۔ دراصل اس مرض میں سانس کی نالیاں اس قدرحسّاس ہوجاتی ہیں کہ دھواں، مٹّی یا دیگر الرجنز سے(وہ چیزیں جو الرجی کا سبب بنتی ہیں) واسطہ پڑنے کے نتیجے میں کھانسی، سانس یا سینے میں گھٹن کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔ بعض اوقات یہ علامات ازخود یا پھر مخصوص ادویہ کے استعمال سے چند روز میں ٹھیک بھی ہو جاتی ہیں، لیکن مرض وقفے وقفے سے حملہ آور ہوتا رہتا ہے۔ مرض کی خاص علامات میں سانس لیتے ہوئے سیٹی کی سی آواز آنا، سینے میں جکڑن محسوس ہونا اور بار بار کھانسی(جو لمبے عرصے تک رہتی ہے)شامل ہیں۔ ہر مریض میں یہ علامات مختلف بھی ہوسکتی ہیں۔ اگر کسی فرد کو کھانسی، نزلہ زکام رہتا ہو، اور سانس بھی پُھولتی ہو اور عام علاج سے افاقہ نہ ہورہا ہو، تو ماہرِ امراضِ سینہ سے رابطہ ضروری ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">دَمہ جتنا عام مرض ہے، اس سے متعلق معاشرے میں مفروضات بھی اُتنے ہی عام ہیں، جب کہ بعض باتیں تو زبانِ زدِعام ہوکر نسلوں سے منتقل ہورہی ہیں، حالاں کہ ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ پھر بعض افراد اپنے مشاہدات سے بھی کئی مفروضے گھڑلیتے ہیں۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ مستند معالجین ان مفروضات کو رَد کریں یا ان کی تشریح کریں، جب کہ عام افراد پر بھی یہ ذمّے عائد ہوتی ہے کہ وہ بلا تحقیق کسی مفروضے یا مشاہدے کو زبانِ زدِ عام نہ کریں۔ آج کل سوشل میڈیا کا دَور ہے، لہٰذا ایسی پوسٹس یا ای میلز فارورڈ نہ کی جائیں، جو مستند ماہر معالج یا کسی تحقیقی ادارے کی جانب سے نہ ہوں۔بصورتِ دیگر نہ صرف ہم اس مفروضے سے متاثر ہوکر خود کو نقصان پہنچائیں گے، بلکہ جھوٹ پھیلانے کا سبب بھی بنیں گے۔</p>
<p style="text-align: right;">دَمے سے متعلق ہمارے معاشرے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ یہ ایک خطرناک بیماری ہے، جو درست نہیں۔ اصل میں زیادہ تر مریضوں میں دَمےکی علامات الرجی کی صُورت ظاہر ہوتی ہیں، جو سال میں چند روزیا وقفے وقفے سے مخصوص حالات میں مریض کو پریشان تو کرتی ہیں، لیکن علاج کے نتیجے میں آرام آجاتا ہے اور اکثر مریض اس کے بعد صحت مند زندگی گزارتے ہیں ۔ ہاں، یہ ضرور ہے کہ بعض مریضوں میں دَمے کا حملہ شدید ہوتا ہے اور انہیں اسپتال تک داخل کروانا پڑتا ہے، یہاں تک کہ وینٹی لیٹر کی بھی ضرورت پیش آ سکتی ہے، لیکن ایسے کیسز کی تعداد بہت کم ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">ان میں زیادہ تر وہ کیسز شامل ہیں ،جن میں قدرتی طور پر مرض کی نوعیت شدید ہوتی ہے ۔ اکثر مریضوں میں مرض کے عدم کنٹرول کی وجہ درست علاج نہ ہونا ہے، جس کے نتیجے میں دَمے کا حملہ شدید ہوسکتا ہے۔ یہ بات بھی سمجھنی چاہیے کہ اگر کوئی فرد معمولی بیماری کا مناسب علاج نہ کروائے، تو مرض بتدریج شدید نوعیت اختیار کرلیتا ہے ۔ چناں چہ دَمے کے مرض سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اس کے مناسب علاج پر توجّہ دی جائے، تاکہ معمولی مسئلہ بڑھ کر شدّت اختیار نہ کرسکے۔ ایک یہ مفروضہ بھی عام ہے کہ دَمہ چُھوت کا مرض ہے،جو ایک فرد سے دوسرے میں باآسانی منتقل ہو جاتا ہے۔ یاد رکھیں، دَمے کا عارضہ کوئی انفیکشن نہیں، جو کھانسنے، چھینکنے یا سانس لینے سے کسی دوسرے فرد میں منتقل ہو جائے، البتہ اگر کسی مریض کے حلق یا ناک میں جراثیم موجود ہوں، تو ہوسکتا ہے کہ وہ کھانستے ہوئے کسی دوسرے فرد میں منتقل ہوجائیں۔</p>
<p style="text-align: right;">متعدّد کیسز میں دَمے کا مرض موروثی بھی ہوتا ہے۔ یعنی ماں، باپ یا دونوں میں سے کسی ایک کو دَمے کا مرض لاحق ہو ،تو ان کے بعض بچّوں میں یہ مرض منتقل ہو جاتا ہے، البتہ ضروری نہیں کہ مرض کی شدّت ماں یا باپ جیسی ہی ہو۔ کسی بھی مرض کی منتقلی کا اختیار اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس نہیں، اس لیے اس مرض کو چُھوت کی بیماری نہ سمجھا جائے۔ جن بچّوں کو دَمہ لاحق ہوتا ہے، ہمارے معاشرے میں اُن کے بارےمیں یہ خیال عام ہے (اور کچھ ڈاکٹرز بھی والدین کو بتاتے ہیں) کہ ’’جب بچّہ بارہ یا تیرہ سال کا ہو گا، تو مرض بھی ختم ہو جائے گا۔‘‘</p>
<p style="text-align: right;">اصل میں ایسا ہر کیس میں نہیں ہوتا۔ بعض اوقات سنِ بلوغت کی عُمرتک پہنچنے پر دَمے کی علامات بہت کم یا سِرے سے ختم ہو جاتی ہیں، لیکن ان میں سے متعدّد کیسز میں کئی برسوں بعد مرض کی علامات دوبارہ ظاہر ہونے لگتی ہیں، لہٰذا والدین کو چاہیے کہ اس بحث میں اُلجھنے کے بجائے کہ’’ دَمہ مکمل طور پرختم ہوگا یا نہیں‘‘ صرف علاج پر توجّہ دیں،تاکہ مرض کے اثرات بچّے پر کم سے کم مرتّب ہوں اور وہ ایک صحت مند زندگی گزار سکے۔ہر مریض کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا مرض ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے، یہ ایک فطری خواہش ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">مگر چوں کہ یہ ایک قدرتی الرجی کی صُورت ہے اور اکثر افراد تاعُمر اس کا شکار رہتے ہیں، تو یہ سوچ کر کہ ’’کاش! کوئی ایسی دوا مل جائے، جو مرض کا جڑ سے خاتمہ کردے ‘‘خود کو ہلکان نہ کریں، بلکہ اس امر پر توجّہ دی جائے کہ درست علاج کے بعد نارمل زندگی کیسے گزاری جائے، جو کہ اکثر مریض باآسانی گزارسکتے ہیں (ویسے مستقبل میں ایسا ممکن ہو تو کوئی بعید نہیں، لیکن تاحال اس مرض کے جڑ سے خاتمے کا کوئی علاج دستیاب نہیں)۔</p>
<p style="text-align: right;">ایک اور مفروضہ کہ دَمے کے علاج میں استعمال کی جانے والی ادویہ، خاص طور پر اِن ہیلر یا پمپ مضرِ صحت ہیں یا ان کی عادت پڑ جاتی ہے،بالکل ہی غلط ہے۔ یاد رکھیے، عادت اُن چیزوں کی پڑتی ہے، جو نشہ آور ہوں اور دَمے کے علاج میں استعمال کی جانے والی کوئی بھی دوا نشہ آور نہیں۔ جن افراد میں دَمہ دائمی ہو (تقریباً روز کی شکایت)، یعنی موسمی نہیں، تو انہیں روزانہ کی بنیاد پر (کبھی کبھی ساری زندگی بھی) کوئی نہ کوئی دوا استعمال کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ جو علاج کی ضرورت ہے، عادت نہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ذیا بطیس، بلڈپریشر یا عارضۂ قلب کے شکار مریض روزانہ دوا استعمال کرتے ہیں، تاکہ مرض کنٹرول میں رہے اور صحت بھی برقرار رکھی جاسکے۔</p>
<p style="text-align: right;">اسی طرح دَمے کے متعدّد مریضوں کوعلاج کاکوئی نہ کوئی طریقہ مستقل بنیادوں پراختیار کرنا پڑتا ہے۔ اکثر ماہر ڈاکٹرز دُنیا کے بڑے تحقیقاتی اداروں کی شایع کردہ گائیڈ لائینز کی روشنی میں طویل عرصے تک استعمال کرنے کے لیے اِن ہیلر یا پمپ تجویز کرتے ہیں، کیوں کہ ان کے اندر ادویہ کی مقدار انتہائی قلیل ہوتی ہے، جو براہِ راست پھیپھڑوں تک پہنچ کر فوری افاقے کا باعث بنتی ہے، جب کہ اِن ہیلرز کے فوائد کی نسبت، مضر اثرات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">دَمے کے علاج کے ضمن میں کارٹی سون یا اسٹرائیڈز ایک کلیدی اہمیت رکھتے ہیں، کیوں کہ دَمہ سوزش کاعارضہ ہے اور سوزش کا تدارک Anti inflammatory ادویہ ہی کے ذریعے کیا جاسکتا ہے۔ ان ادویہ میں سرِ فہرست اسٹرائیڈز ہیں۔ اسٹیرائیڈز کے حوالے سے بھی خاصے شکوک وشبہات عام ہیں۔یہ بات درست ہے کہ ان ادویہ کے ذیلی اثرات ہوتے ہیں، لیکن جیسے ایک چُھری کا مناسب استعمال انسان کے کام بھی آ سکتا ہے اور اس کا بے دریغ استعمال نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">اسی طرح اگر کارٹی سون ادویہ ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر بلا ضرورت(گولیوں کی شکل میں)طویل عرصے تک استعمال کی جائیں،تو یقیناً اس کے ضمنی اثرات ظاہر ہوں گے۔ البتہ اِن ہیلر کی صُورت میں کارٹی سون انتہائی مفید ہے کہ اس کے مضر اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ دَمے سے متعلقہ مفروضات میں ایک مفروضہ غذائی پرہیز کا بھی ہے۔ ہمارے مُلک میں تقریبا ہر بیماری کے ساتھ غذائی پرہیز ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ایسا کچھ بیماریوں مثلاً بلڈ پریشر، ذیابطیس، پیٹ کے امراض میں تو ضروری ہوسکتا ہے، لیکن دَمے میں نہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">اس کے عوامل میں کھانے پینے کی اشیاء کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس لیے غذائی پرہیز غیر ضروری ہی نہیں، صحت کے لیے نقصان دہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں ہر طرح کی کھانسی اور سانس کے عارضے میں مبتلا مریضوں کو چاول، ٹھنڈے پانی یا مشروبات، کھٹی چیزوں، مختلف پھلوں، دہی اور دودھ وغیرہ سے پرہیز کروایا جاتا ہے، مگر تحقیق یہ بتاتی ہے کہ انتہائی کم تعداد میں شاید کچھ افراد ان غذائی اجزأ میں سے کسی ایک سے الرجک ہوں، لیکن 99فی صد سے زائد دَمے کے مریضوں کو کھانے یا پینے کی کسی بھی قسم کی اشیاء سے الرجی نہیں ہوتی۔</p>
<p style="text-align: right;">چناں چہ دَمے کے مریضوں کو تمام صحت بخش، مفید اشیاء اپنے غذائی شیڈول میں شامل رکھنی چاہئیں۔ دودھ، دہی، سبزی پھلوں کا استعمال صحت کے لیےمفید ہے،البتہ انہیں استعمال نہ کرنے کے نتیجے میں جسم میں اہم اجزاء مثلاً کیلشیم، وٹامنز وغیرہ کی کمی واقع ہوجاتی ہے، خصوصاً بچّوں میں اچھی اور متوازن خوراک جسمانی اور ذہنی نشوونما میں مؤثر ثابت ہوتی ہے،لہٰذا دَمے کے شکار مریض خواہ بچّے ہوں یا بڑے تمام صحت بخش اشیاء کا استعمال جاری رکھیں۔ اگر شبہ ہو کہ کسی خاص چیز سے مرض شدّت اختیار کرتا ہے، تو معالج سے مشورہ کرلیں، وگرنہ خود ساختہ احتیاط نہ کریں۔عموماً کہا جاتا ہے کہ اس مرض کے شکار مریضوں کو بھاگ دوڑ یا ورزش نہیں کرنی چاہیے ۔</p>
<p style="text-align: right;">اگرچہ یہ درست ہے کہ خاص طور پر دَمے کے حملے کے وقت یا اگربیماری کی نوعیت شدید ہو، تو سیڑھیاں چڑھنے یا دیگر محنت کے کام کرنے سے سانس زیادہ پُھولتی اور مرض بڑھتا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ عام دِنوں میں بھی مریض ورزش نہ کرے، بچّےوں کو کھیلنے کودنے سے روکا جائے یا تیراکی یا دیگر کھیل نہ کھیلنے دئیے۔ بعض مریض، جنہیں ورزش یا بھاگ دوڑ کے بعد سانس پھولنے یا کھانسی کی شکایت ہو، انہیں چاہیے کہ فوری آرام پہنچانے والے Bronchodilators اِن ہیلر ورزش سے پندرہ منٹ یا آدھا گھنٹہ قبل استعمال کرلیں، تاکہ دورانِ ورزش سانس کا مسئلہ نہ ہو۔</p>
<p style="text-align: right;">دیگر کئی امراض کی طرح دَمے سے متعلق بھی متعدّد مفروضات و توہمّات عام ہیں، جن پر تحقیق کے بغیر یقین کرنا یا آگے بڑھانا مناسب نہیں۔ اگر کسی مفروضے سے متعلق شبہ ہو تو فوری کسی مستند معالج سے رائے لیں۔ درج بالا بیان کردہ تشریحات سمجھیں اور خود کو غیر ضروری مشکلات سے بچاتے ہوئے دَمے کے علاج پر توجّہ دیں۔یاد رکھیے، اگر مستند اور ماہر معالج کی ہدایت کے مطابق ادویہ استعمال کی جائیں، تو دَمے کا تقریباً ہر مریض ایک صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔ <i>(مضمون نگار،انڈس اسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک، کراچی کے شعبہ چیسٹ میڈیسن کے سربراہ ہیں اور بطورپروفیسر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ نیز، پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن (پیما) کے مرکزی صدر بھی رہ چُکے ہیں)</i></p><p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%d8%af%d9%8e%d9%85%db%81-%d9%85%d9%81%d8%b1%d9%88%d8%b6%d8%a7%d8%aa%d8%8c-%d8%ba%d9%84%d8%b7-%d8%aa%d8%b5%d9%88%d8%b1%d8%a7%d8%aa-%da%a9%db%8c-%d8%a8%db%8c%d8%ae-%da%a9%d9%86%db%8c-%d9%86%d8%a7%da%af/">دَمہ: مفروضات، غلط تصورات کی بیخ کنی ناگزیر</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>پاکستان کا اک مقصد تھا ۔ مقصد پاکستان نہیں تھا ۔</title>
		<link>https://www.drsohailakhtar.com/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%da%a9-%d9%85%d9%82%d8%b5%d8%af-%d8%aa%da%be%d8%a7-%db%94-%d9%85%d9%82%d8%b5%d8%af-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%86%db%81/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25d9%25be%25d8%25a7%25da%25a9%25d8%25b3%25d8%25aa%25d8%25a7%25d9%2586-%25da%25a9%25d8%25a7-%25d8%25a7%25da%25a9-%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25b5%25d8%25af-%25d8%25aa%25da%25be%25d8%25a7-%25db%2594-%25d9%2585%25d9%2582%25d8%25b5%25d8%25af-%25d9%25be%25d8%25a7%25da%25a9%25d8%25b3%25d8%25aa%25d8%25a7%25d9%2586-%25d9%2586%25db%2581</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Dr.Sohail Akhtar]]></dc:creator>
		<pubDate>Fri, 27 Jan 2023 15:15:30 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Social and Medical]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://www.drsohailakhtar.com/?p=546</guid>

					<description><![CDATA[<p>اس سب سے بڑی ہجرت کے گواہ اور شریک رہے ہیں . ان سے ان دنوں کے واقعات سننے کی ضرورت ہے . کتابوں میں بہت مواد موجود ہے لیکن first hand information یا آنکھوں دیکھا حال , جو اثر چھوڑتا ہے, وہ دیرپا ہوتا ہے. میرے والد اگست 1947 میں بارہ سال کی عمر [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%da%a9-%d9%85%d9%82%d8%b5%d8%af-%d8%aa%da%be%d8%a7-%db%94-%d9%85%d9%82%d8%b5%d8%af-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%86%db%81/">پاکستان کا اک مقصد تھا ۔ مقصد پاکستان نہیں تھا ۔</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">اس سب سے بڑی ہجرت کے گواہ اور شریک رہے ہیں .</p>
<p style="text-align: right;">ان سے ان دنوں کے واقعات سننے کی ضرورت ہے .</p>
<p style="text-align: right;">کتابوں میں بہت مواد موجود ہے لیکن first hand information یا آنکھوں دیکھا حال , جو اثر چھوڑتا ہے, وہ دیرپا ہوتا ہے.</p>
<p style="text-align: right;">میرے والد اگست 1947 میں بارہ سال کی عمر کے تھے . کئی بار ان سے وہ حالات سنے .</p>
<p style="text-align: right;">دہلی سے اپنے گھر کو کنڈی لگا کر پورا خاندان نکلا , لاشوں کو پھلانگتے ہوئے اور ٹرکوں میں بھر کے یا چھپ کر دوسرے علاقے کی ایک حویلی میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ جان بچانے کو ٹہرے . پھر دادا نے اورئئنٹ ائیر ویز کے ایک طیارے میں تیس بتیس افراد کیلئے ٹکٹ لیں, جانا کراچی چاہتے تھے , جہاں کچھ رشتے دار مقیم تھے , لیکن ٹکٹ رسالپور کے ہی دستیاب تھے . چنانچہ رسالپور , پھر پشاور پہنچے. دادا کاروبار کے سلسلے میں ہندو پاک میں سفر کا تجربہ رکھتے تھے. ایک واقف نے اپنا گھر پیش کیا . اتنی مہمان نوازی کی کہ دادا کے والد نے دو دن بعد کہا کہ یہاں سے چلو , ہم ان کی عنایات کے تلے دب گئے ہیں .</p>
<p style="text-align: right;">ایک بس میں خاندان راولپنڈی پہنچا. Custodian دفتر سے ایک خالی فلیٹ میں رہنے کا کاغذ پکڑا. ( یہ وہ گھر تھے جو ہندو اپنی ہجرت کے وقت خالی کر گئے تھے ) . بالٹی میں دال چاول پکائی گئی . دادی نے انڈے ابال کر دیے جو میرے والد نے صدر بازار راولپنڈی میں کچھ روز فروخت کئے. کچھ روز کیلئے دادا واپس دہلی گئے اور جہاں کام کرتے تھے , ان کے خاندان کو پاکستان شفٹ کیا. پھر اپنے خاندان کے ساتھ راولپنڈی سے کراچی منتقل ہوئے.</p>
<p style="text-align: right;">نہ ختم ہونے والے واقعات ہیں . ہم میں سے جن کے اوپر اس جنریشن کے بزرگوں کا سایہ موجود ہے , ضرور اس وقت کی باتیں سنیں , یاد رکھیں اور اپنے بچوں کو سنائیں . تاکہ اس ملک کی قدر ہمیں محسوس ہو . جن قربانیوں کے ساتھ ایک قوم ایک نئے خطہ ارضی کیلئے دربدر ہوئی, ان کو یاد رکھیں</p><p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%da%a9%d8%a7-%d8%a7%da%a9-%d9%85%d9%82%d8%b5%d8%af-%d8%aa%da%be%d8%a7-%db%94-%d9%85%d9%82%d8%b5%d8%af-%d9%be%d8%a7%da%a9%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%86%db%81/">پاکستان کا اک مقصد تھا ۔ مقصد پاکستان نہیں تھا ۔</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
