<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?><rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Covid 19 Archives - Dr.Sohail Akhtar</title>
	<atom:link href="https://www.drsohailakhtar.com/category/covid-19/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>https://www.drsohailakhtar.com/category/covid-19/</link>
	<description>Professor of Medicine and Consultant Chest Physician</description>
	<lastBuildDate>Sat, 28 Jan 2023 13:56:23 +0000</lastBuildDate>
	<language>en-US</language>
	<sy:updatePeriod>
	hourly	</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>
	1	</sy:updateFrequency>
	<generator>https://wordpress.org/?v=6.8.3</generator>

<image>
	<url>https://www.drsohailakhtar.com/wp-content/uploads/2017/10/cropped-favicon-32x32.png</url>
	<title>Covid 19 Archives - Dr.Sohail Akhtar</title>
	<link>https://www.drsohailakhtar.com/category/covid-19/</link>
	<width>32</width>
	<height>32</height>
</image> 
	<item>
		<title>کوویڈ کی لہریں!</title>
		<link>https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%d9%88%d9%88%db%8c%da%88-%da%a9%db%8c-%d9%84%db%81%d8%b1%db%8c%da%ba/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25da%25a9%25d9%2588%25d9%2588%25db%258c%25da%2588-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2584%25db%2581%25d8%25b1%25db%258c%25da%25ba</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Dr.Sohail Akhtar]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 28 Jan 2023 13:56:23 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Covid 19]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://www.drsohailakhtar.com/?p=574</guid>

					<description><![CDATA[<p>پچھلے چار پانچ مہینوں میں کورونا کا اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ، جس میں کوویڈ کے مریض بڑھتے اور کم ہوتے اور دوبارہ بڑھتے رہے ہیں۔ صورتحال مختلف شہروں میں بھی مختلف رہی ہے۔ ایسی صورتحال میں ، کسی فرد اور حکام کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوسکتا ہے کہ کتنی پابندی کرنی ہے [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%d9%88%d9%88%db%8c%da%88-%da%a9%db%8c-%d9%84%db%81%d8%b1%db%8c%da%ba/">کوویڈ کی لہریں!</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">پچھلے چار پانچ مہینوں میں کورونا کا اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ، جس میں کوویڈ کے مریض بڑھتے اور کم ہوتے اور دوبارہ بڑھتے رہے ہیں۔ صورتحال مختلف شہروں میں بھی مختلف رہی ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">ایسی صورتحال میں ، کسی فرد اور حکام کے لئے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوسکتا ہے کہ کتنی پابندی کرنی ہے اور کتنی نہیں ۔ خصوصا طویل عرصے تک انسان ان سے بیزار بھی ہو جاتا ہے ۔ اور اس کا اثر زندگی کی ضروریات پر پڑتا ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">ہر وبائی 'لہر' کی سب سے بڑی وجہ یہی سمجھی جاتی ہے کہ کیسز کم ہوتے ہی لوگ گھلنے ملنے لگتے ہیں ، ماسک وغیرہ پہننا ترک کردیتے ہیں اور بازار وغیرہ کھل جاتے ہیں۔</p>
<p style="text-align: right;">پاکستان کے کچھ علاقوں میں ، کویوڈ کی نئی ورائٹی (strains) پھیلاؤ کی ایک اور بڑی وجہ ہیں ۔ دوسری اور تیسری لہر میں دیکھا گیا کہ کوویڈ کی شدت پہلے سے کم نہیں رہی ۔</p>
<p style="text-align: right;">کورونا کے بدترین شکار اب بھی بزرگ افراد اور دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد ہی ہیں ۔ نوجوان اور صحتمند افراد اپنے قریبی لوگوں میں وائرس پھیلانے کا باعث بنتے رہیں گے ، کیونکہ بہت سے نوجوانوں میں اس کی علامات نہیں ہوتیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">شادی بیاہ اور دیگر تقریبات ، ریستوران ، بازار ، شاپنگ مال ، اسکول ، جلسے جلوس ، عبادت گاہوں سمیت عوامی مقامات ممکنہ طور پر پھیلاؤ کے سب سے بڑے ذرائع ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">کووڈ ویکسینیشن ابھی شروع ہی ہوئی ہے اور پاکستان کی ایک فیصد سے بھی کم آبادی نے ابھی تک ویکسین لگوائی ہے ، یہ مجموعی قوت مدافعت (herd immunity) حاصل ہونے سے بہت دور ہے جب کہا جاسکے کہ سب محفوظ ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">تو عزیز دوستو ، ایسا لگتا ہے کہ کوویڈ ایس او پیز کو ترک کرنے اور خطرات کو ہلکا سمجھنے کا وقت ابھی نہیں آیا ۔</p>

<ol style="text-align: right;">
 	<li>اگر ملازمتیں ، تجارت ، تعلیم ، سفر ، مذہبی مراسم وغیرہ جیسی زندگی کی ضروریات کو جاری رکھنا ہے تو ، ماسک اور دیگر SOPs کو اختیار رکھنا اگلے کئی مہینوں تک ضروری ہے ۔</li>
 	<li>ہر کسی کو خود جائزہ لینا چاہئے کہ جو بھی کرنا ہے کیا وہ اشد ضروری ہے ؟ اگر ہے تو اسے تمام احتیاط کے ساتھ کرنا چاہئے۔ ورنہ گریز کرے ۔</li>
 	<li>جب آپ کی باری آئے تو بلا تاخیر کووڈ کا حفاظتی ٹیکہ لگوائیں ۔ اس کی افادیت ، مختلف برانڈز کے انتخاب وغیرہ کے نہ ختم ہونے والے سوالات میں خود کو نہ الجھائیں ۔ اگر پہلے کوئڈ ہوچکا ہو تب بھی ویکسین لگوانی ضروری ہے۔</li>
</ol>
<p style="text-align: right;">ویکسین کے سائیڈ ایفیکٹس کی غیر ضروری تشہیر ہوئی ہے ۔ قوی سائنسی شواہد ہیں کہ سائیڈ ایفیکٹس عشر عشیر ہیں ، بہت معمولی درجے کے ہیں اور فائدہ کہیں زیادہ ۔</p>
<p style="text-align: right;">4۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اللہ سے اس کے رحم و کرم کے لئے دعا کریں ، جس کے بغیر انسان بے بس ہے۔</p>
<p style="text-align: right;">۲۰  مارچ</p><p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%d9%88%d9%88%db%8c%da%88-%da%a9%db%8c-%d9%84%db%81%d8%b1%db%8c%da%ba/">کوویڈ کی لہریں!</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کورونا کی ویکسین اگر ابھی تک نہیں لگوائی ، تو فوراً لگوالیں ۔</title>
		<link>https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d9%88%db%8c%da%a9%d8%b3%db%8c%d9%86-%d8%a7%da%af%d8%b1-%d8%a7%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%aa%da%a9-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d9%84%da%af%d9%88%d8%a7%d8%a6/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25da%25a9%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2588%25d9%2586%25d8%25a7-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2588%25db%258c%25da%25a9%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2586-%25d8%25a7%25da%25af%25d8%25b1-%25d8%25a7%25d8%25a8%25da%25be%25db%258c-%25d8%25aa%25da%25a9-%25d9%2586%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25d9%2584%25da%25af%25d9%2588%25d8%25a7%25d8%25a6</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Dr.Sohail Akhtar]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 28 Jan 2023 13:55:03 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Covid 19]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://www.drsohailakhtar.com/?p=572</guid>

					<description><![CDATA[<p>اس پوسٹ کو پڑھنے والے تمام +60 ساتھیوں سے گذارش ہے کہ کورونا کی ویکسین اگر ابھی تک نہیں لگوائی ، تو فوراً لگوالیں ۔ حکومت کی طرف سے خاصی مناسب سہولیات مہیا کی گئی ہیں ۔ قیمت بھی ادا نہیں کرنی پڑتی ۔ طریقہ کار بہت آسان ہے ۔ 1166 پر اپنا شناختی کارڈ [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d9%88%db%8c%da%a9%d8%b3%db%8c%d9%86-%d8%a7%da%af%d8%b1-%d8%a7%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%aa%da%a9-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d9%84%da%af%d9%88%d8%a7%d8%a6/">کورونا کی ویکسین اگر ابھی تک نہیں لگوائی ، تو فوراً لگوالیں ۔</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">اس پوسٹ کو پڑھنے والے تمام +60 ساتھیوں سے گذارش ہے کہ کورونا کی ویکسین اگر ابھی تک نہیں لگوائی ، تو فوراً لگوالیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">حکومت کی طرف سے خاصی مناسب سہولیات مہیا کی گئی ہیں ۔ قیمت بھی ادا نہیں کرنی پڑتی ۔</p>
<p style="text-align: right;">طریقہ کار بہت آسان ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">1166 پر اپنا شناختی کارڈ نمبر میسیج کردیں ۔ وہاں سے ایک پیغام بمعہ کوڈ نمبر فوری موصول ہوجاتا ہے ۔ اس میسیج اور اپنے شناختی کارڈ کے ساتھ کسی بھی قریبی سینٹر میں جا کر ویکسین لگوالیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">اگر آپ کے گھر اور احباب میں اس عمر کے افراد ہیں تو انہیں بھی یہی پیغام دیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">اگر قائل نہیں ہیں ، یا ادھر ادھر کی باتیں سن کر شک میں ہیں تو سمجھا دیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">وبا سامنے ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">بچاؤ کیلیے سہولت دستیاب ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">پھر دیر کیسی !</p>
<p style="text-align: right;">شفا اللہ کی طرف سے ہوتی ہے ، اپنے حصے کا کام تو کریں ۔</p>
<p style="text-align: right;">سائیڈ ایفیکٹس بہت کم لوگوں کو اور بہت معمولی دیکھے گئے ہیں ۔ بدن میں درد ، ہلکا بخار وغیرہ ۔</p>
<p style="text-align: right;">بڑی عمر کے لوگوں کو ، اور خاص طور پر دل کے ، شوگر کے اور بلڈ پریشر کے مریضوں کو تو اس ویکسین کی سب سے پہلے ضرورت ہے ، کیونکہ کورونا انہی کو زیادہ نقصان پہنچاتا ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">اگر پہلے کورونا ہو بھی چکا ہو تو بھی یہ ویکسین لگوانا چاہیے</p><p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d9%88%db%8c%da%a9%d8%b3%db%8c%d9%86-%d8%a7%da%af%d8%b1-%d8%a7%d8%a8%da%be%db%8c-%d8%aa%da%a9-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d9%84%da%af%d9%88%d8%a7%d8%a6/">کورونا کی ویکسین اگر ابھی تک نہیں لگوائی ، تو فوراً لگوالیں ۔</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کیا کورونا کی ویکسین کے بعد کورونا ہونے کے امکانات بالکل ختم ہو جاتے ہیں ؟</title>
		<link>https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%db%8c%d8%a7-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d9%88%db%8c%da%a9%d8%b3%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%db%81%d9%88%d9%86%db%92/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25da%25a9%25db%258c%25d8%25a7-%25da%25a9%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2588%25d9%2586%25d8%25a7-%25da%25a9%25db%258c-%25d9%2588%25db%258c%25da%25a9%25d8%25b3%25db%258c%25d9%2586-%25da%25a9%25db%2592-%25d8%25a8%25d8%25b9%25d8%25af-%25da%25a9%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2588%25d9%2586%25d8%25a7-%25db%2581%25d9%2588%25d9%2586%25db%2592</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Dr.Sohail Akhtar]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 28 Jan 2023 13:53:19 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Covid 19]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://www.drsohailakhtar.com/?p=570</guid>

					<description><![CDATA[<p>کیا کورونا کی ویکسین کے بعد کورونا ہونے کے امکانات بالکل ختم ہو جاتے ہیں ؟ جواب ہے : نہیں ۔ - کیا کورونا کی ویکسین سائیڈ ایفیکٹس سے سو فیصد محفوظ ہیں؟ جواب ہے : نہیں ۔ - کیا دیگر ویکسین اور دواؤں کے مقابلے میں کورونا کی ویکسین تحقیقاتی مراحل سے اسی رفتار [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%db%8c%d8%a7-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d9%88%db%8c%da%a9%d8%b3%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%db%81%d9%88%d9%86%db%92/">کیا کورونا کی ویکسین کے بعد کورونا ہونے کے امکانات بالکل ختم ہو جاتے ہیں ؟</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">کیا کورونا کی ویکسین کے بعد کورونا ہونے کے امکانات بالکل ختم ہو جاتے ہیں ؟ جواب ہے : نہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">- کیا کورونا کی ویکسین سائیڈ ایفیکٹس سے سو فیصد محفوظ ہیں؟ جواب ہے : نہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">- کیا دیگر ویکسین اور دواؤں کے مقابلے میں کورونا کی ویکسین تحقیقاتی مراحل سے اسی رفتار سے گزری ہیں؟ جواب ہے : نہیں اور ہاں۔</p>
<p style="text-align: right;">- کیا ویکسین کورونا کا واحد حل ہے یا آخری حل ہے ؟ جواب ہے : نہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">تو پھر ویکسین پر اتنا زور کیوں ؟</p>
<p style="text-align: right;">کیا ہم سب ویکسین کے بغیر زندگی نہیں گزار سکتے ؟</p>
<p style="text-align: right;">ان سب سوالات کے جوابات اس مثال سے سمجھ میں آسکتے ہیں :۔</p>
<p style="text-align: right;">فرض کیجئے کہ آپ ایک سمندر میں تیر رہے ہیں (کشتی غرق ہو چکی) ، دور دور تک کوئی مدد کے آثار نہیں ۔ سامنے ایک لکڑی کا ٹوٹا پھوٹا تختہ نظر آتا ہے ۔ آپ کے پاس دو راستے ہیں ۔ ایک یہ کہ اسی پر سوار ہوجائیں ۔ یا یہ کہ کسی کشتی کے آسرے میں ایک انجانے بحرِ بیکراں میں تیرتے رہیں تاوقتیکہ تھک کر ڈوب جائیں یا کسی شارک کا لقمہ بن جائیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p style="text-align: right;">کورونا اچانک نازل ہونے والی بالکل نئی بیماری ہے ۔ وبائے عام (pandemic) ہے ۔ اللہ کے فضل سے اس میں مبتلا اکثر افراد معمولی بخار کے بعد دس پندرہ روز میں ٹھیک ہو جاتے ہیں ۔ لیکن تقریباً دس فیصد میں مرض زیادہ شدت کا ہوتا ہے اور دو فیصد سے کم مریض موت کا شکار بھی ہو سکتے ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">کسی بھی نئی بیماری کا علاج دریافت ہونے میں سالوں لگتے ہیں ۔ کورونا کے مسلمہ علاج کا انتظار کرنا جب ممکن ہوتا اگر چند ایک مریضوں سے سابقہ پڑتا ۔ یہاں تو غول کے غول ہسپتالوں میں امڈ آئے ، یہاں تک کہ ہسپتالوں کے دالانوں میں ان کو رکھنا پڑا ، علاج کرنے والے ڈاکٹرز اور نرسیں کم پڑ گئے یا خود بیمار پڑ گئے ۔ ایسے حالات میں ، ایک بالکل نئے وائرس سے نبٹنے کے لیے جو بھی علاج میسر آیا ، استعمال کیا گیا ۔</p>
<p style="text-align: right;">کورونا کے علاج میں استعمال ہونے والی اکثر ابتدائی دوائیں مثلاً hydroxychloroquine , azithromycin , plasma , وغیرہ اس سے ملتے جلتے دیگر امراض میں پہلے استعمال ہوچکی تھیں ۔ اسی لیے تیزی سے بڑھتے ہوئے ایک طوفان کو روکنے کی کوشش میں انہیں استعمال کیا گیا ، تحقیق کے طویل مراحل سے گذرے بغیر ۔ پھر وقت کے ساتھ ان میں سے بہت سوں کو فائیدہ مند لسٹ سے خارج بھی کرنا پڑا ۔</p>
<p style="text-align: right;">تحقیق کبھی جامد نہیں ہوتی ۔ انسانی ذہن بہتر سے بہتر کی تلاش میں ہمیشہ رہتا ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">وبائی امراض کی تاریخ یہی رہی ہے کہ ان کا بہترین علاج ان سے بچاؤ ہوتا ہے ۔ چنانچہ بہت سے ایسے امراض جن کے لیے بعد میں ادویات میسر آگئیں ، مثلاً ٹی بی ، کالی کھانس ، ٹیٹنس وغیرہ ، لیکن وبائی امکان کی وجہ سے ان کے حفاظتی ٹیکے ترک نہیں کیے گئے ۔</p>
<p style="text-align: right;">کووڈ کے ابتدائی وقت سے بھی میڈیکل سائنس کا فوکس ویکسین ہی رہا ۔ یہ ایک چومکھی لڑائی تھی جس میں ایک طرف تو عوام کو بچاؤ (SOPs) کی بھرپور ترغیب دلائی گئی ، دوسری طرف مریضوں کے علاج کی بہتر سے بہتر سہولیات جنگی بنیادوں پر مہیا کرنے کی کوششیں کی گئیں ۔ اس کے ساتھ ساتھ ویکسین کی تحقیق میں درجنوں اداروں نے عرق ریزی کی جو جاری ہے اور اگلے کئی سال شاید جاری رہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">کسی وبا کے ختم ہونے یا بالکل ہلکا ہونے کا ایک امکان یہ ہوتا ہے کہ آبادی کی اکثریت میں اس کے خلاف مدافعت (immunity) پیدا ہو جائے ۔ لیکن ایسا ہونے تک کثیر اموات ہونے کا نقصان کوئی برداشت نہیں کرسکتا ۔</p>
<p style="text-align: right;">لامحالہ حفاظتی ٹیکے یا ویکسین ہی بڑے پیمانے کی مدافعت (herd immunity) کا سب سے موثر ذریعہ رہ جاتے ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔</p>
<p style="text-align: right;">اب ان سوالات اور وسوسوں کی جانب آتے ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">1 - کیا کورونا کی ویکسین کے بعد کورونا ہونے کے امکانات بالکل ختم ہو جاتے ہیں ؟ جواب ہے : نہیں ۔ کسی بھی دوا یا علاج کی افادیت سو فیصد نہیں ہوتی ۔ پھر بھی ہم علاج کرتے ہیں اسوقت دستیاب بہترین ذرائع میں سے ۔ چالیس پچاس سال پہلے بیماریوں کا جو علاج رائج تھا ، اگر بعد کی تحقیق کے نتیجے میں آج اس سے مختلف رائج ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں کہ پہلے غلط علاج کیا گیا ۔ بلکہ یہ کہ ہر دور کی تحقیق و معلومات کے نتیجے میں جو بہترین راستہ میسر ہو ، اسے ہی اپنایا جاسکتا ہے ۔ وقت کے ساتھ اللہ نے بہتر راستے دکھائے تو علاج بھی تبدیل ہوئے ۔</p>
<p style="text-align: right;">اسی طرح کسی علاج کے لیے ایک دوا ، سو فیصد مریضوں کو فائیدہ نہیں دیتی ۔ یہ اللہ کی مشیت ہے ۔ اس کی وجہ بہت سے مختلف عوامل ہوتے ہیں جو کسی ایک دوا (یا ویکسین) کے فائدہ مند ہونے یا نہ ہونے میں کارفرما ہوسکتے ہیں ۔ کچھ کا علم ہوپاتا ہے ، کچھ کا نہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">2 - کیا کورونا کی ویکسین کے کوئی سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہیں؟ جواب ہے : نہیں ۔ دنیا کی کوئی بھی دوا یا ویکسین مضر اثرات (سائیڈ ایفیکٹس) سے بالکل خالی نہیں ہے ۔ دواؤں کے عام استعمال کی اجازت دینے سے پہلے ادارے اس بات کا اطمینان کرتے ہیں کہ صرف ان ادویات کو اوکے کیا جائے جن کی ریسرچ کے دوران مضر اثرات نہ تو سیرئس نوعیت کے اور نا بڑی تعداد میں پائے گئے ہوں ۔</p>
<p style="text-align: right;">چنانچہ کورونا کی مختلف ویکسینز سے بھی معمولی نوعیت کے اثرات جیسے ہلکا بخار، جسم میں درد وغیرہ دیکھے گئے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ان کی وجہ سے ویکسین کے استعمال کو ترک کر دینا عقلمندی نہیں ہوگی کیونکہ ویکسین نا لگوانے سے کورونا کے نقصانات اس سے کہیں زیادہ ہوسکتے ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">(چند ایک شدید نوعیت کے مضر اثرات کی رپورٹس سامنے آئی ہیں ، جس کی تحقیق جاری ہے ۔ البتہ ویکسین کی اکثریت بڑے سائیڈ ایفیکٹس سے محفوظ ہے)</p>
<p style="text-align: right;">3 - کیا دیگر ویکسین اور دواؤں کے مقابلے میں کورونا کی ویکسین تحقیقاتی مراحل سے مناسب رفتار سے گزری ہیں؟ جواب ہے : نہیں اور ہاں ۔</p>
<p style="text-align: right;">ایک طرف تو تحقیقاتی عمل ، جو دواؤں کی تیاری کے سلسلے میں کچھ سالوں میں مکمل ہوتا ہے ، کورونا کیلئے تیزی سے طے کیا گیا تاکہ ایک عالمی وبا کی روک تھام جلد ہوسکے ۔ دوسری طرف اس 'تیزی' میں معیار کیلئے ضروری تقاضوں کو درگزر نہیں کیا گیا جو کم از کم درکار ہوتی ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">4 - کیا ویکسین کورونا کا واحد حل ہے یا آخری حل ہے ؟ جواب ہے : نہیں ۔ کووڈ کی بہتر سے بہتر ویکسین اور دوائیں ، جن سے اس کے نہ ہونے کے امکانات مزید کم ہوسکیں اور وہ بالکل محفوظ بھی ہو ، کی تلاش میں دنیا لگی ہوئی ہے ۔ البتہ اس سے بہتر کوئی علاج فی الحال میسر نہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">- اس کے علاوہ بہت سے دیگر سوالات ہیں ۔ مثلاً کووڈ وائرس کی نئی اقسام (strains) کا موجودہ ویکسین سے قابو میں آنا ۔</p>
<p style="text-align: right;">مختلف ویکسینز میں فایدہ کے تناسب کا فرق ۔</p>
<p style="text-align: right;">ویکسین کی عام دستیابی کیلئے سالوں کا انتظار اور وسائل ، وغیرہ ۔</p>
<p style="text-align: right;">عملی راستہ یہی نظر آتا ہے کہ جب تک اللہ کی ہدایت کے نتیجے میں انسانی ذہن اس سے بہتر راستہ تلاش نہیں کرلیتا ، موجودہ طریقہ یعنی ویکسین کو اپنایا جائے ۔</p>
<p style="text-align: right;">کچھ لوگوں میں ویکسین کے بعد کورونا ہونے کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ انہوں نے بہت جلد احتیاط ترک کردی اس سے پہلے کہ مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ۔ یا وہ ان پانچ ، دس فیصد افراد میں سے تھے جو ویکسین کے فوائد سے بہرحال محروم رہ جاتے ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">یہ وائرس ایک سے دوسرے میں پھیلتا ہے ۔ انسانی فطرت پابندیوں کو زیادہ دیر تک برداشت نہیں کرسکتی ۔ معاشی و معاشرتی مجبوریاں انسان کو لامحالہ غیر محفوظ راستے کی طرف دھکیل دیتی ہیں ۔ اسلیے 'دنیا میں رہنے' اور محفوظ رہنے کیلئے موجودہ حالات میں ویکسین ہی مناسب راستہ محسوس ہوتا ہے ، حفاظتی ذرائع (ماسک وغیرہ) کو اختیار رکھنے کے ساتھ ، جب تک اس مرض کا موثر سدباب نہیں ہوجاتا ۔</p>
<p style="text-align: right;">ایک قابل توجہ بات یہ ہے کہ جب تک آبادی کی اکثریت ویکسین نہ لگوالے ، بڑے پیمانے کی مدافعت یا herd immunity حاصل ہونا مشکل ہے ۔ پاکستان میں اسوقت تک ویکسین لگوانے والے افراد کی تعداد ایک فیصد سے کم ہے ۔ معاشرے کو مجموعی فائیدہ ملنا جب ہی ممکن ہوگا جب کثیر تعداد میں افراد تمام شکوک وشبہات کو پس پشت ڈال کر اللہ کی اس دی گئی سہولت سے فیض یاب ہوں گے ۔</p><p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%db%8c%d8%a7-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%da%a9%db%8c-%d9%88%db%8c%da%a9%d8%b3%db%8c%d9%86-%da%a9%db%92-%d8%a8%d8%b9%d8%af-%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%db%81%d9%88%d9%86%db%92/">کیا کورونا کی ویکسین کے بعد کورونا ہونے کے امکانات بالکل ختم ہو جاتے ہیں ؟</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>ایک گمراہ کن ویڈیو آج کل سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے</title>
		<link>https://www.drsohailakhtar.com/%d8%a7%db%8c%da%a9-%da%af%d9%85%d8%b1%d8%a7%db%81-%da%a9%d9%86-%d9%88%db%8c%da%88%db%8c%d9%88-%d8%a2%d8%ac-%da%a9%d9%84-%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84-%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d9%be%d8%b1-%da%af/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25d8%25a7%25db%258c%25da%25a9-%25da%25af%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25a7%25db%2581-%25da%25a9%25d9%2586-%25d9%2588%25db%258c%25da%2588%25db%258c%25d9%2588-%25d8%25a2%25d8%25ac-%25da%25a9%25d9%2584-%25d8%25b3%25d9%2588%25d8%25b4%25d9%2584-%25d9%2585%25db%258c%25da%2588%25db%258c%25d8%25a7-%25d9%25be%25d8%25b1-%25da%25af</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Dr.Sohail Akhtar]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 28 Jan 2023 13:50:48 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Covid 19]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://www.drsohailakhtar.com/?p=567</guid>

					<description><![CDATA[<p>ایک گمراہ کن ویڈیو آج کل سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے جس میں ڈاکٹر کے لباس پہنے ایک نوجوان یہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر آپ کو آکسیجن نہیں مل رہی ہو تو اس کی بجائے نیبولایئزر nebulizer استعمال کریں ، آرام آجائے گا ۔ اس پر ہرگز یقین نہیں کریں ۔ آکسیجن [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%d8%a7%db%8c%da%a9-%da%af%d9%85%d8%b1%d8%a7%db%81-%da%a9%d9%86-%d9%88%db%8c%da%88%db%8c%d9%88-%d8%a2%d8%ac-%da%a9%d9%84-%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84-%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d9%be%d8%b1-%da%af/">ایک گمراہ کن ویڈیو آج کل سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">ایک گمراہ کن ویڈیو آج کل سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے جس میں ڈاکٹر کے لباس پہنے ایک نوجوان یہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر آپ کو آکسیجن نہیں مل رہی ہو تو اس کی بجائے نیبولایئزر nebulizer استعمال کریں ، آرام آجائے گا ۔</p>
<p style="text-align: right;">اس پر ہرگز یقین نہیں کریں ۔</p>
<p style="text-align: right;">آکسیجن کی کمی صرف آکسیجن سے پوری کی جا سکتی ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">نیبولایئزر ایک مشین ہے جس میں کوئی دوا یا سیلائن saline ڈالی جائے تو وہ ہوا کے پریشر سے بخارات بن کر سانس کے ذریعے پھیپھڑوں میں جاتی ہے ۔ یہ عام طور پر دمہ اور سانس کے امراض میں خصوصاً شدید نوعیت کے کیسز میں استعمال ہوتی ہے ۔ البتہ ایسے وقت میں بھی آکسیجن ساتھ دی جاتی ہے (اگر اس کی کمی ہو ) ۔</p>
<p style="text-align: right;">اس ویڈیو میں نوجوان لہجہ سے پڑوسی ملک کا باشندہ لگتا ہے (ممکن ہے ) جہاں ان دنوں کورونا کی لہر لاکھوں لوگوں کو لپیٹ میں لی ہوئی ہے ، اور آکسیجن کی کمی اور ہسپتالوں میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد میں اموات ہورہی ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ شاید یہ نوجوان اپنی دانست میں ایسے پریشان لوگوں کو ایک موہوم سی امید دلا رہا ہے (کہ نیبولایئزر لے لو ، کم از کم ہوا میں موجود آکسیجن ہی پھیپھڑوں تک پہنچ جائے گی) یا لاعلم ہے یا کسی اور وجہ سے یہ پیغام دے رہا ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">اس کی نیت جو بھی ہو ، بہرحال ۔۔۔۔</p>
<p style="text-align: right;">اس سے ہرگز یہ مطلب نہیں لیا جائے کہ کورونا یا کسی بھی دوسرے مرض میں جب آکسیجن کی کمی ہو تو اسے خالی نیبولایئزر (جس میں دوا بھی کوئی نہیں ہے) کے استعمال سے پورا کیا جاسکتا ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">نہ اس سے یہ خوف ہونا چاہیے کہ ہر کورونا کے مریض کو یہ نوبت آتی ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">سمجھنے کی بات یہ ہے کہ کورونا کے سو مریضوں میں سے دس کو نمونیا ہوسکتا ہے جن میں سے کچھ کو آکسیجن کی کمی اور ہسپتال میں علاج کی ضرورت پیش آسکتی ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">اگر کسی شہر میں ایک وقت میں کورونا کے سو مریض ہوں تو ایسی شدت کے دس مریض ہی ہوسکتے ہیں جن کو طبی امداد ملنا نسبتاً آسان ہے ۔ البتہ جب عوام کی لاپرواہی کی وجہ سے ایک وقت میں کسی شہر میں ہزاروں مریض ہو جائیں ، تو ان کے دس فیصد کتنے ہوں گے ؟ اور اس علاقے کے ہسپتال اتنی بڑی تعداد کو داخل اور آکسیجن سمیت ادویات مہیا کرنے کی صلاحیت کب تک رکھ سکتے ہیں</p><p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%d8%a7%db%8c%da%a9-%da%af%d9%85%d8%b1%d8%a7%db%81-%da%a9%d9%86-%d9%88%db%8c%da%88%db%8c%d9%88-%d8%a2%d8%ac-%da%a9%d9%84-%d8%b3%d9%88%d8%b4%d9%84-%d9%85%db%8c%da%88%db%8c%d8%a7-%d9%be%d8%b1-%da%af/">ایک گمراہ کن ویڈیو آج کل سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہے</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
		<item>
		<title>کورونا کا کوئی وجود نہیں اور یہ مرض ایک بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے ۔</title>
		<link>https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%8c%db%81-%d9%85%d8%b1%d8%b6-%d8%a7%db%8c%da%a9/?utm_source=rss&#038;utm_medium=rss&#038;utm_campaign=%25da%25a9%25d9%2588%25d8%25b1%25d9%2588%25d9%2586%25d8%25a7-%25da%25a9%25d8%25a7-%25da%25a9%25d9%2588%25d8%25a6%25db%258c-%25d9%2588%25d8%25ac%25d9%2588%25d8%25af-%25d9%2586%25db%2581%25db%258c%25da%25ba-%25d8%25a7%25d9%2588%25d8%25b1-%25db%258c%25db%2581-%25d9%2585%25d8%25b1%25d8%25b6-%25d8%25a7%25db%258c%25da%25a9</link>
		
		<dc:creator><![CDATA[Dr.Sohail Akhtar]]></dc:creator>
		<pubDate>Sat, 28 Jan 2023 13:47:20 +0000</pubDate>
				<category><![CDATA[Covid 19]]></category>
		<guid isPermaLink="false">http://www.drsohailakhtar.com/?p=564</guid>

					<description><![CDATA[<p>کورونا سے متعلق خبر رساں ایجنسی رائیٹرز سے منسوب ایک من گھڑت خبر عوام کے اذہان میں شکوک کو ہوا دے رہی ہے ۔ جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس میں کورونا یا کووڈ سے مرنے والوں کے پوسٹ مارٹم سے پتا چلا ہے کہ: - کورونا کا کوئی وجود نہیں اور یہ [&#8230;]</p>
<p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%8c%db%81-%d9%85%d8%b1%d8%b6-%d8%a7%db%8c%da%a9/">کورونا کا کوئی وجود نہیں اور یہ مرض ایک بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے ۔</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></description>
										<content:encoded><![CDATA[<p style="text-align: right;">کورونا سے متعلق خبر رساں ایجنسی رائیٹرز سے منسوب ایک من گھڑت خبر عوام کے اذہان میں شکوک کو ہوا دے رہی ہے ۔ جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ روس میں کورونا یا کووڈ سے مرنے والوں کے پوسٹ مارٹم سے پتا چلا ہے کہ:</p>
<p style="text-align: right;">- کورونا کا کوئی وجود نہیں اور یہ مرض ایک بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">- موت کی وجہ خون کا رگوں میں جم جانا ہے جو بیکٹیریا سے ہوتا ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">- عالمی ادارہ صحت WHO کی ہدایات تھیں کہ کورونا سے مرنے والوں کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا جائے ، اور روس نے بڑے پیمانے پر اس کی خلاف ورزی کی ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔</p>
<p style="text-align: right;">رائیٹرز نے 15 اپریل 2021 کے ایک آرٹیکل <a href="https://www.reuters.com/article/factcheck-russia-covid-autopsy-idUSL1N2M82C9?fbclid=IwAR3T2rrNOKb2y3rz3lxFi06uKmbcCbfwP-Ci-hX5lObelyQSlGxUe_sjP6o">https://www.reuters.com/.../factcheck-russia-covid...</a> میں اس خبر کو من گھڑت قرار دیا ہے ۔ اور کہا ہے کہ</p>
<p style="text-align: right;">1 ۔ ڈبلیو ایچ او نے COVID-19 متاثرین کے لئے پوسٹ مارٹم کرنے کی ممانعت نہیں کی ۔ البتہ ستمبر 2020 میں ادارے نے کووڈ سے مرنے والے افراد کے پوسٹ مارٹم کے حفاظتی طریقہ کار کے بارے میں رہنمائی جاری کی تھی ۔</p>
<p style="text-align: right;">پوسٹ مارٹم روس سمیت بہت سے دیگر ممالک میں ایک عمومی طریقہ کار ہے جس سے موت کی وجہ متعین کرنے میں مدد ملتی ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">14 اپریل 2021 تک روس میں 104,000 افراد کی اموات کووڈ 19 سے ہونے کی تصدیق روسی وزارت صحت خود کر چکا ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">2 ۔ کورونا کی پیچیدگیوں میں رگوں میں خون کا جمنا thrombosis شامل ہے جس کا علم طبی ماہرین کو ایک سال سے ہے ۔ اسی وجہ سے کووڈ کے شدید بیمار افراد کو خون پتلا کرنے کی ادویات مثلاً heparin دی جاتی ہیں ۔ اس سے وائرس ہونے کی نفی نہیں ہوتی ، بلکہ کئی انفکشنز اور دیگر بیماریوں کی پیچیدگیوں کی وجہ تھرومبوسس ہوتا ہے ، یہ حقیقت سالوں سے میڈیکل سائنس میں مسلمہ ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">(ایسپرین اس کا اصل علاج نہیں جیسا کہ اس خبر میں کہا گیا ہے) ۔</p>
<p style="text-align: right;">3 ۔ کووڈ سے اموات کی وجہ محض تھرومبوسس نہیں ، مدافعتی نظام کی کمزوری سے نمونیا اور دوسرے secondary انفکشن ، ہارٹ اٹیک ، گردوں کا فیل ہوجانا ، وغیرہ شامل ہیں ۔ (ایسے پیچیدہ کیسز پانچ فیصد سے کم متاثر افراد ہی میں ہوتے ہیں) ۔</p>
<p style="text-align: right;">4 ۔ ایک اور غلط بات جو اس پوسٹ میں کہی گئی یہ ہے کہ بیکٹیریا کی وجہ سے اس بیماری کا علاج اینٹی بائیوٹکس سے با آسانی ہوجاتا ہے ۔ یہ بھی غلط ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">کووڈ سمیت دیگر وائرس انفکشن کا علاج اینٹی بائیوٹک ادویات سے کرنا غلط ہے (جبکہ اینٹی وائرل ادویات شدید نوعیت کے کچھ مریضوں میں فائدہ دے سکتی ہیں) . اینٹی بائیوٹک کا فایدہ صرف ان کیسز میں ہوسکتا ہے جن میں بیکٹیریا secondary انفکشن کرائیں ۔ بے دریغ استعمال سے اینٹی بائیوٹکس اصل بیکٹیریا کے انفکشن میں resistance یعنی بے اثر بھی ہوسکتی ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">خلاصہ ۔</p>
<p style="text-align: right;">ایک سال سے زیادہ عرصے سے اس وبا میں مبتلا افراد کو اپنے دائیں بائیں ہر طرف دیکھنے اور کثیر تعداد میں اموات کے مشاہدے کے باوجود اگر کوئی اب بھی اس کا انکاری ہے تو افسوس کے علاوہ کیا کیا جاسکتا ہے ۔</p>
<p style="text-align: right;">گلہ عام لوگوں سے بھی کیا جاسکتا ہے جو ناواقفیت اور سادہ لوح ہونے کی وجہ سے منفی خبروں سے جلد اثر لے لیتے ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">البتہ اس کے زیادہ قصور وار وہ افراد ہیں جو بے صبری یا سستی شہرت کی وجہ سے کسی غیر مصدقہ خبر کو پھیلانا اپنا فرض سمجھتے ہیں ، جس سے لاکھوں سادہ ذہن حقیقت سے انکاری ہو کر خود کو اور دیگر لوگوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔</p>
<p style="text-align: right;">کیا اس ملک میں کوئی ایسا ادارہ نہیں ، جو ایسے مسخروں کو چیک کرسکے ؟</p>
<p style="text-align: right;">مسلمانوں کو تو نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی واضح ہدایت کو سامنے رکھنا چاہیے جس میں آپ نے اس شخص کو ایماندار نہیں قرار دیا جو ہر سنی سنائی بات کو آگے پھیلائے ۔</p>
<p style="text-align: right;">اللہ ہمیں ہدایت دے آمین ۔</p>
<p style="text-align: right;">ڈاکٹر سہیل اختر</p><p>The post <a href="https://www.drsohailakhtar.com/%da%a9%d9%88%d8%b1%d9%88%d9%86%d8%a7-%da%a9%d8%a7-%da%a9%d9%88%d8%a6%db%8c-%d9%88%d8%ac%d9%88%d8%af-%d9%86%db%81%db%8c%da%ba-%d8%a7%d9%88%d8%b1-%db%8c%db%81-%d9%85%d8%b1%d8%b6-%d8%a7%db%8c%da%a9/">کورونا کا کوئی وجود نہیں اور یہ مرض ایک بیکٹیریا کی وجہ سے ہوتا ہے ۔</a> appeared first on <a href="https://www.drsohailakhtar.com">Dr.Sohail Akhtar</a>.</p>
]]></content:encoded>
					
		
		
			</item>
	</channel>
</rss>
